منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ورلڈ بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا ءسے نکال کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں شامل کر دیا

datetime 20  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عالمی بینک نے اپنی ترقیاتی درجہ بندی میں تبدیلی کرتے ہوئے پاکستان کو جنوبی ایشیا کے گروپ سے نکال کر مالی سال 2026 کے لیے مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ (مینا) کے خطے میں شامل کر دیا ہے۔

غیر ملکی ویب سائٹ ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی کسی باضابطہ اعلان کے ذریعے نہیں بلکہ ادارے کے ڈیٹا بیس میں موجود میٹا ڈیٹا گلاسری میں سامنے آئی، جہاں پاکستان اور افغانستان کو اب مینا ریجن کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کو بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے ساتھ جنوبی ایشیا میں شمار کیا جاتا تھا۔

ابتدائی طور پر اس اقدام کو تکنیکی نوعیت کی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ عالمی مالیاتی ادارے وقتاً فوقتاً اپنی علاقائی تقسیم کو معاشی پالیسیوں، قرضہ جاتی حکمت عملی اور انتظامی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی درجہ بندیاں صرف انتظامی نہیں ہوتیں بلکہ ان سے ممالک کی عالمی شناخت اور اقتصادی تجزیہ بھی متاثر ہوتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں مغربی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دے رہا ہے۔ بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ معاشی و سفارتی روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان خود کو اب صرف جنوبی ایشیائی ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے رابطہ ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے جو وسطی ایشیا، خلیجی ممالک اور بحیرۂ عرب کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس نئی درجہ بندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی ادارے پاکستان کو ایک وسیع تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جہاں اس کی معاشی سرگرمیاں، افرادی قوت کی ترسیل، سیکیورٹی اہمیت اور سفارتی تعلقات مشرق کے ساتھ ساتھ مغربی خطوں تک پھیل چکے ہیں۔

مزید برآں، پاکستان نے حالیہ علاقائی حالات میں خود کو ایک مؤثر ثالث اور رابطہ کار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے تحت وہ مختلف خطوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ یہ حکمت عملی پاکستان کو ایک ابھرتے ہوئے سرمایہ کاری اور لاجسٹک مرکز کے طور پر بھی اجاگر کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…