منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سرکاری ملازمین پر پابندیاں عائد

datetime 18  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 نافذ کردیا جس کے تحت سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا اور سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہے۔

وزیراعظم کی منظوری کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے یہ نئے قواعد نافذ کیے ہیں جو پاکستان اور بیرونِ ملک تعینات تمام سول سرونٹس پر فوری طور پر لاگو ہوں گے، ان نئے قوانین نے 1964کے پرانے کنڈکٹ رولز کی جگہ لے لی ہے۔نئے قواعد کے تحت تمام سرکاری ملازمین کے لیے اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران: سالانہ بنیادوں پر ایک مخصوص ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔وفاقی بورڈ آف ریونیو ان ڈیکلریشنز کا آڈٹ کرے گا، اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کچھ معلومات عوامی سطح پر بھی جاری کی جا سکتی ہیں۔حکومت نے سرکاری ملازمین کی آن لائن سرگرمیوں کو ضابطے میں لانے کے لیے سخت حدود مقرر کی ہیں ، بغیر اجازت کسی بھی بلاگ، وی لاگ یا میڈیا پلیٹ فارم کو چلانے پر پابندی ہوگی، ذاتی سوشل میڈیا اکانٹس پر سرکاری معلومات شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔حکام کسی بھی وقت ملازم کے ذاتی سوشل میڈیا اکانٹ کی تفصیلات طلب کر سکتے ہیں، اپنی سرکاری ڈیوٹی کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

ملازمین اور ان کے اہل خانہ ایسے تحائف یا مراعات قبول نہیں کر سکیں گے جو ان کے سرکاری فرائض پر اثر انداز ہوں، اگر کسی فیصلے میں افسر کا ذاتی مالی مفاد شامل ہو، تو وہ اس فیصلے کے عمل سے خود کو الگ کرنے کا پابند ہوگا جبکہ کسی بھی غیر ملکی اعزاز یا خطاب کو قبول کرنے کے لیے حکومت سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگی۔نئے رولز کے تحت سول سرونٹس کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے اور نہ ہی کسی سیاسی گروپ کی حمایت کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری پالیسیوں پر عوامی سطح پر تنقید کرنا ممنوع ہے۔دورانِ ملازمت کسی بھی نجی ادارے، بینک، این جی او یا غیر ملکی ادارے میں پارٹ ٹائم یا فل ٹائم ملازمت کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ان قواعد کا مقصد سرکاری نظام میں دیانت داری، نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کو فروغ دینا ہے، ملازمین کو ایسی تحریریں یا یاداشتیں شائع کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے جن سے حساس یا خفیہ معلومات ظاہر ہونے کا خدشہ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…