لاہور( این این آئی )احتساب عدالت نے پیرا گون سکینڈل ریفرنس میں خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 12روز کی توسیع کردی ۔ عدالت نے خواجہ سعد رفیق کو اسلام آباد لے جانے پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کیا اسپیکر عدالت کو حکم دے سکتاہے ؟ اگر عدالت کی اجازت کے بغیر ملزم کو
اس طرح اسمبلی میں پیش کرنا ہے تو ٹرائل بھی اسمبلی میں کروا لیں۔احتساب عدالت کے جج جوادالحسن نے سماعت کی۔ نیب خواجہ سلمان رفیق کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا۔احتساب عدالت کے جج جوادالحسن نے وکیل سے استفسار کیا کہ سعد رفیق کہاں ہیں؟جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سعد رفیق قومی اسمبلی اجلاس میں شریک ہونے کے باعث پیش نہیں ہوئے ،عدالت نے استفسار کیا کہ تیسرے ملزم ندیم ضیا کو ابھی تک کیوں گرفتار کرکے کیوں پیش نہیں کیا ۔اس موقع پرعدالت نے کہا استفسار کیا کہ کیا ملزم خود چاہے تو پروڈکشن آرڈرز کے باوجود اسمبلی سیشن میں شریک نہ ہو؟ کیا سپیکر عدالت کو حکم دے سکتا ہے؟ ۔یڈیشنل سیکرٹری لیجیلسیشن عدالت کو کیسے حکم دے سکتا ہے؟ اگر عدالت کی اجازت کے بغیر ملزم کو اس طرح اسمبلی میں پیش کرنا ہے تو ٹرائل بھی اسمبلی میں کروا لیں۔آج اس کیس میں فرد جرم عائد کرنا تھی وہ کام رک گیاہے ۔حکومت نے یہ کیس چلوانا ہے یا نہیں؟۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ یہ حکم عدالت کو نہیں دیا گیا بلکہ سپرنٹنڈنٹ جیل، ڈی جی نیب، آئی جی پنجاب، سی سی پی او اور دیگر کو حکم دیا گیا ہے۔خواجہ سعد رفیق کو پیش کرنے کیلئے براہ راست حکم نہیں دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ انہوں نے کان پکڑا ہے مگر ہاتھ گما کر پکڑا ہے، ملزم کا حق ہے کہ وہ اسمبلی میں جائے مگر عدالت سے اجازت لیکر پروڈکشن جاری کئے جائیں۔پروڈکشن آرڈرز جاری کر کے سارے سسٹم کو بائی پاس کیا گیا۔سپرنٹنڈنٹ نے میرے ڈیوٹی جج سے پروڈکشن آرڈرز پر دستخط کروا لئے ہیں، اسمبلی میں اتنے اہم ایشوز ہوتے ہیں اس وقت یہی اراکین اپنی مرضی ہو تو پیش نہیں ہوتے۔بعد ازاں عدالت نے خواجہ برادران کوریفرنس کی نقول فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ میں 12 روزتوسیع کرتے ہوئے ملزموں کودوبارہ 20 اگست کوپیش کرنے کا حکم دیدیا ۔



















































