منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

عمران خان ابھی تک انتقامی گھوڑے سے نہیں اترے، او آئی سی ”آئی سی یو“ میں ہیں،حافظ حسین احمد کا دعویٰ سامنے آ گیا

datetime 7  اگست‬‮  2019 |

کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت اوراپوزیشن کو آپس میں سیز فائر کرنا ہوگا، حکومت کو اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے لیے پہل کرنا ہوگی،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے وزیر اعظم کے خطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک انتقامی گھوڑے سے اترے نہیں، پاکستانی سیاستدانوں میں ہم آہنگی نہیں ہوگی تو عالمی برادری سے توقع رکھنا حماقت ہوگی،

او آئی سی کو ”آئی سی یو“ سے نکالنے میں ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ اپنی رہائش گاہ جامع مطلع العلوم میں مختلف وفود اور صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد عمران احمد نیازی کو اپوزیشن کے حوالے سے سیز فائر کرنا ہوگا اوراپوزیشن کو بھی موجودہ صورتحال میں تعاون کے بارے میں سوچنا ہوگا تب کہی جاکر کشمیری مظلوم عوام کی اشک شوئی ممکن ہوسکے گی،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم کی تقریر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ابھی تک انتقامی گھوڑے سے اترے نہیں ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بھی وہی صورتحال سامنے آئی ہے، انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے ثالثی کے اعلان اور نریندر مودی کے اقدام سے یہ خدشہ بھی ہے کہ ماضی کے سقوط ڈھاکہ کی طرح اللہ نہ کرے ایک بار پھر امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہو کیوں کہ امریکہ نے کافی عرصہ پہلے بھی کشمیر کی تقسیم کا عندیہ دیا تھا اور نریندر مودی کے اقدامات بھی اسی انداز کے ہیں، انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو ”آئی سی یو“ سے نکالنے میں ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی ہے لیکن اگر پاکستان کے سیاستدانوں میں ہم آہنگی نہیں ہوگی تو عالمی برادری سے کوئی بڑی توقع رکھنا حماقت ہوگی،

انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے عسکری اتحادکے ایجنڈے میں کاش کشمیر اور پاکستان کا دفاع بھی شامل ہوتا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے لیے پہل کرنا ہوگی اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو نئی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دینا چاہئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے بننے والی سات رکنی کمیٹی میں اپوزیشن کو برائے نام نمائندگی بھی نہیں دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…