ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

والدین کی چھوٹی سی غلطی نے بیٹی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

datetime 6  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک ) والدین ہمیشہ اولاد کی خیر خواہی چاہتے ہیں لیکن بعض اوقات ان کا اصلاح کرنے کا طریقہ نہایت منفی ہوتا ہے اور خود انہیں کے لئے عمر بھی کا روگ بن جاتاہے۔ امریکی شہر ٹکوما میں پیش آنے والا ایک دردناک واقعہ والدین کی افسوسناک غلطیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔گیوڈرون مڈل سکول کی 13 سالہ طالبہ ایزابیل لکسمانہ کے والد نے اس کی کسی بات سے ناراض ہو کر بطور سزا اس کے بال کاٹ دئے تھے اور اس معاملے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی تھی۔ بدقسمتی سے یہ ویڈیو کسی طرح انٹرنیٹ پر بھی آ گئی۔ ویڈیو سامنے آنے کے چند دن بعد یہ شکستہ دل لڑکی شہر کے ایک انٹرسٹیٹ پل پر گئی اور بیسیوں فٹ کی بلندی سے کود کی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔.پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی شدید زہنی دباﺅکی شکار تھی اور اس نے خود کشی سے پہلے اپنے گھر والوں کے نام چھ نوٹ لکھے۔ انٹرنیٹ پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکی کے کٹے ہوئے بال فرش پر بکھرے پڑے ہیں اور اس کا والد اس سے پوچھ رہا ہے کہ اسے کتنی دفعہ خبردار کیا گیا تھا، لڑکی جواب دیتی ہے ”بہت دفعہ۔“ اس ویڈیو کے انٹرنیٹ پر آنے کے کچھ عرصہ بعد اسے ہٹا دیا گیا تھا۔لڑکی کی خودکشی کے بعد اس کے والد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے فعل کو غیر مناسب اور منفی قرار دینے والوں کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی اصلاح کے لئے نہایت غلط طریقہ اختیار کیا۔ والد کے عمل کو بیٹی کی خود کشی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھئے:بھوکا ریچھ خوراک کی تلاش میں بجلی کے ٹاور۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ ایزابیل کے والد نے اس کے بال کاٹے تھے تاہم یہ اس کی خود کشی کی بنیادی وجہ نہیں ہے۔ پولیس نے خیال ظاہر کیا ہے کہ لڑکی دیگر کئی وجوہات کی بنائ پر بھی ذہنی دبا? کی شکار تھی۔سماجی و نفسیاتی ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے سے سبق حاصل کریں اور بچوں کی اصلاح کے لئے ایسے طریقے ہرگز اختیار نہ کریں جن میں بچوں کو شرمندہ کیا جائے یا ان کی عزت نفس مجروح کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…