پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

جذباتیت کشمیر و افغانستان جیسے مسائل کو نقصان پہنچا سکتی ہے، ذرا سی غلطی کی تو کیا ہوگا؟اسفندیار ولی خان نے انتباہ کردیا

datetime 6  اگست‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ کشمیر اور افغانستان سمیت تمام حل طلب مسائل پر جذبات کی بجائے ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے،بنیادی مسئلہ پاکستان کی بقاء ہے،ذرا سی غلطی سے افغانستان کا امن عمل سبوتاژہو سکتا ہے، خطے کی موجودہ صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی نے کشمیر سمیت ہر بارڈر کے حوالے سے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، مسائل جنگ سے حل نہیں ہو سکتے،

کشمیر پر ہمارا مؤقف واضح ہے،مسئلہ کا واحد حل استصواب رائے کے ذریعے ممکن ہے اور جو بھی اسے سبوتاژ کرے گا وہ امن کے خلاف قدم تصور ہو گا، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد بھی شملہ معاہدے کی بنیاد تھی اور شملہ معاہدے کے تحت یہ تنازعہ دونوں ملکوں کا باہمی معاملہ ہے اور وہی اس کا بات چیت سے کوئی حل تلاش کریں گے۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ استصواب رائے کے حق کے لیے کشمیریوں کی عظیم قربانیوں کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور بین الاقوامی برادری کو کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردوں کی روشنی میں اْن کا حق دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے حوالے سے بھی یہی مؤقف رکھتے ہیں،امن مذاکرات ہر قیمت پر کامیاب ہونے چاہئیں اور خطے میں بڑھتے ہوئے مسائل حل کرنا ہونگے، انہوں نے کہا کہ جتنی توجہ آئج کشمیر کے معاملے پر مرکوز ہے، افغانستان کا مسئلہ بھی اتنی ہی توجہ کا طالب ہے، اگر افغانستان کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے تو پاکستان کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے،اسی میں ملک اور خطے کا فائدہ ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا بنیادی ضرورت ہے، ہٹ دھرمی سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچے گا جس سے پورا خطہ شام کی طرح جنگ کا ایندھن بن جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں دیرپا امن کیلئے ایسا موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے ورنہ خطے میں سفارتی سطح پر بڑا اپ سیٹ ہو سکتا ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ابھی سے ہر قدم پھونک پھونک کو اٹھانا چاہئے، انہوں نے کہا کہ عقل مند اور ذی شعور قومیں ہمیشہ مسائل کو الجھانے کی بجائے انہیں جڑ سے ختم کی جانب پیش قدمی کرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…