جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا او آئی سی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب،پاکستان نے بڑا اعلان کردیا

datetime 6  اگست‬‮  2019 |

جدہ (این این آئی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کا تعین کرنیوالے 370 آرٹیکل اور 35 اے کا خاتمہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر میں مزید فورس بھجوانا، تعلیمی اداروں کو بند کروانا اور ایمرجنسی کی کیفیت بھارت کے ارادوں کا پتہ دے رہے ہیں،

بھارتی اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کو مزید خراب کرنے کے مترادف ہیں جس پر آپ کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت متعین کرنیوالے آرٹیکل 370 کے خاتمے اور کشمیر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر جدہ میں منگل کو او آئی سی کنٹیکٹ گروپ برائے کشمیر کا ہنگامی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، آذربائجان، ترکی اور دیگر ممبر ممالک کے مندوبین/نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کی۔ او آئی سی کنٹیکٹ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب کرنے اور ان میں شرکت کیلئے وقت نکالنے پر تمام شرکاء اور منتظمین کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ملٹرائزڈ علاقہ ہے میں بھارت کی جانب سے مزید فورس بھجوانا، تعلیمی اداروں کو بند کروانا اور ایمرجنسی کی کیفیت بھارت کے ارادوں کا پتہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی طرف سے لوک سبھا کا اجلاس بلا کر مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کا تعین کرنیوالے 370 آرٹیکل اور 35 اے کا خاتمہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے 1989 سے اب تک ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 22000 سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں،ایک لاکھ آٹھ ہزار بچے یتیم ہوئے اور 12000 سے زائد خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بھارت کے اقدامات کے پیش نظر، خطرے کو بھانپتے ہوئے، اقوام متحدہ سلامتی کونسل، جنرل سیکرٹری او آئی سی کو پاکستان کے خدشات سے آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئے گئے اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کو مزید خراب کرنے کے مترادف ہیں جس پر آپ کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…