منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکا کو ایران سے کسی ڈیل میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے،امریکی تجریہ کار

datetime 1  اگست‬‮  2019 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکا کو ایران کے ساتھ کسی ڈیل کے لیے عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔یہ بات ہڈسن انسٹی ٹیوٹ، واشنگٹن ڈی سی کے محقق لی اسمتھ نے عرب ٹی وی سے خصوصی انٹرویو میں کہی ، انھوں نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے اس بیان کی تائید کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سابق صدر براک اوباما کے دور میں کی گئی ڈیل ایران کے جوہری پروگرام کے خطرے سے نمٹنے میں ناکام رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں ٹرمپ انتظامیہ نے درست طور پر کہا ہے، یہ جنگ اور (ایران سے) ڈیل میں سے کسی انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔مائیک پومپیو نے اکنامک کلب واشنگٹن میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نے دنیا کو درکار اقتصادی شرح نمو کے تحفظ کا انتظام کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی وسائل تک رسائی روکنے کے لیے اپنی بہترین کوششیں کی ہیں۔جب ان سے ایران کے یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنے کے لیے اقدامات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ ایک نظام الاوقات میں جوہری ہتھیاروں کے نظام کی تیاری کے لیے صلاحیت کا معاملہ ہے۔اس کا آپ سے، آپ کے بچّوں اور پوتوں سے تعلق ہے۔سابق حکومت نے اس پہلو کو ملحوظ نہیں رکھا تھا۔لی اسمتھ کا کہنا تھا کہ جب اوباما انتظامیہ نے ایران سے ڈیل کی تھی تو ان کا نظریہ یہ تھا کہ ایرانیوں سے یا تو کوئی ڈیل ہوگی یا پھر ان سے جنگ ہوسکتی ہے لیکن اب یہ پابندیوں کا معاملہ نہیں اور ہمیں کسی سمجھوتے کے لیے کسی زیادہ اشتیاق کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ برطانیہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی سے بھی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو امریکا میں ایرانی مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کی اہمیت اجاگر کرنے میں مدد ملی ہے۔لی اسمتھ نے اپنے تجزیے میں کہا کہ اوباما انتظامیہ کی ایران سے کی گئی ڈیل سے بڑا مسئلہ یہ ہوا تھا کہ اس سے ایرانیوں کو خطے میں گڑ بڑ پھیلانے کے لیے بھاری رقوم حاصل ہوگئی تھیں۔اس نے ان رقوم سے یمن ہویا عراق ، شام ہویا لبنان،ان سب ممالک میں گڑ بڑ پھیلائی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف پابندیاں کیسے موثرالعمل ہوسکتی ہیں،اس کا راستہ بڑا واضح ہے۔ان میں ایران کے جوہری پروگرام کو ہدف بنانا ہوگا۔ان کے ذریعے خطے بھر میں دہشت گردی اور تشدد سے نمٹنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…