منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

ایران نے جوہری ری ایکٹر سے متعلق ایسا فیصلہ کر لیا جس نے دشمن ممالک کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 29  جولائی  2019 |

تہران (این این آئی)ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے پارلیمان کے نمایندہ ایک اجلاس میں بتایا ہے کہ آراک میں واقع بھاری پن کے جوہری ری ایکٹر میں جلد دوبارہ سرگرمیاں شروع کردی جائیں گی۔ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی نے اجلاس میں شریک پارلیمان کے متعدد ارکان کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ واضح رہے کہ بھاری پن کو جوہری ری ایکٹرز میں پلوٹونیم کی

تیاری کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پلوٹونیم کو ایندھن کے طور پر جوہری وار ہیڈز کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔پارلیمان کے ’’آزاد‘‘ دھڑے کے اجلاس میں آراک بھاری پن جوہری ری ایکٹر میں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے اور ان کے مضمرات کے موضوع پرعلی اکبر صالحی سے تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔اس آزاد دھڑے کے ترجمان مہرداد لاہوتی نے بتایا کہ تفصیلی غوروخوض کے بعد آراک میں جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور علی اکبر صالحی نے بھی جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جوہری توانائی پیدا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔مہرداد لاہوتی نے علی صالحی کے حوالے سے کہاکہ اس وقت دشمنان ایران اس بات سے آگاہ ہیں کہ ہمارے پاس جوہری توانائی پیدا کرنے کے لیے علم اور صلاحیت ہے لیکن ہم مذہبی وجوہ کی بنا پر جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ ایران نے اس سال مئی میں امریکا کی سخت پابندیوں کے ردعمل میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تقاضوں سے پہلوتہی کے لیے سلسلہ وار اقدامات کا اعلان کیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں ایران سے طے شدہ اس جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا تھا اور نومبر میں ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔ایرانی صدر حسن روحانی نے تین جولائی کو یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر سمجھوتے میں شامل یورپی یونین کے رکن ممالک ایران کو امریکا کی پابندیوں سے بچانے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر سات جولائی کے بعد آراک میں واقع بھاری پن کے جوہری ری ایکٹر میں سرگرمیاں بحال کردی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…