منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

کیا بورس جانسن اخوان سے متعلق پالیسی تبدیل کریں گے؟برطانوی میڈیا

datetime 29  جولائی  2019 |

لندن (این این آئی)برطانیہ میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی ذرائع ابلاغ میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا نومنتخب وزیراعظم بورس جانسن اور ان کی جماعت کنزر ویٹیو پارٹی عرب دنیا کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرے گی؟یہ سوال ایک ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے کہ بورس جانسن نے 23 جولائی کو وزارتِ عظمٰی کا منصب سنبھالا ہے۔

برطانیہ کی ایک نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ میں بورس جانسن کی زندگی، ان کے نظریات، مذہبی جماعتوں کے بارے میں ان کے افکارپرروشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بورس جانسن کا سیاسی پس منظر ان کے خاندانی واقعات سے کم دلچسپ نہیں۔بورس جانسن ایک مصنف اور دانشور بھی ہیں جو خطے اور علاقائی وعالمی سیاست پربھی گہری دست رست رکھتے ہیں۔انہوں نے سنہ 2006ء میں رومن سلطنت کے حوالے سے ایک کتاب تالیف کی۔ انہوں نے اس میں لکھا کہ دنیا کے بعض خطوں میں ترقیاتی عمل میں رکاوٹ کا ایک سبب اسلام سمجھا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں اسلام کی مظلومیت کی بات کی گئی اور یہی تاثر دنیا میں جنگوں کا موجب بن گیا۔عرب ٹی وی کے مطابق بورس جانسن نے اپنی کتاب’’جانسن اور روم کا خواب‘‘ میں اسلام کے حوالے سے جوموقف اختیار کیا اس پرانہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ مغرب کی نسبت اسلام مادی ترقی میں مسلمان ممالک کی پسماندگی کا سبب بنا اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری رہا۔ بورس جانسن کے اسلام کے حوالے سے نظریات اخبار نے بھی شائع کیے تھے۔برطانیہ کی طرف سے اخوان المسلمون کے حوالے سے اپنائے گئے موف پر بھی بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔ کئی ممالک جن میں مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دوسرے ملکوں میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ ایسے میں بعض ممالک اخوان کو پناہ اور تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اخوان کے رہ نمائوں اور ارکان کی بڑی تعداد قطر، ترکی اور برطانیہ میں موجود ہے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی کیونکہ یہ ممالک اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیتے۔مبصرین کا خیال ہے کہ برطانیہ کی کنزر ویٹیو پارٹی کے اخوان المسلمون کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم ہیں۔ اخوان نے

برطانوی کنزر ویٹیو پارٹی کو متعدد انتخابات میں کامیابی کے لیے مدد فراہم کی۔ اخوان کے حامی لوگوں نے کنزر ویٹیو پارٹی کے امیداروں کو ووٹ دیے۔ اس کے علاوہ برطانوی سیکیورٹی ادارے مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک پر دبائو کیلیے اخوان المسلمون کو ایک آلہ کارکے طورپر استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بورس جانسن کے داد علی کمال ترکی کی ایک سرکردہ مسلمان سیاسی شخصیت تھے۔ خلافت عثمانیہ کیدور میں علی کما بک ایک صحافی بھی تھے۔ اس کے بعد جرائد کی چیف ایڈیٹر، شاعر، سیاست دان اور آزاد خیال لیڈر تھے۔انہوں نے فرید پاشا کی حکومت میں تین ماہ تک وزارت داخلہ کا قلم دان بھی سنھبالا۔ ترکی کی آزادی کی جنگ میں انہیں قتل کردیا گیا تھا۔اگرچہ بور جانسن کا خاندانی پس منظر ترک اور اسلام کیساتھ منسلک ہے مگر

ان کے ذاتی خیالات ان کے پیش روئوں کے برعکس ہیں۔ وہ سبکدوش ہونے والی برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی نسبت اخوان المسلمون اور اس کے مالیاتی نیٹ ورک کے بارے میں ایک نیا موقف اختیار کرسکتے ہیں۔برطانیہ میں موجود اخوان المسلمون کی قیادت کو بھی خدشہ لاحق ہے کہ بورس جانسن کے دور حکومت میں اخوان پرعرصہ حیات تنگ کیا جاسکتا ہے۔آنے والے وقت میں برطانیہ میں ان کی عالمی تنظیم، ابلاغی اور سیاسی نیٹ ورک پرایک نئی بحث چھڑتی نظر آ رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…