اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بجٹ کیلئے محکمہ صحت سندھ نے تجاویز کو حتمی شکل دیدی

datetime 5  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک )محکمہ صحت سندھ نے سال2015-16 کیلئے بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دیدی ہے۔ محکمہ صحت نے 4 ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ گذشتہ مالی سال سے 20 فیصد کم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جیونیوزکو حاصل ہونے والی محکمہ صحت کے منصوبوں کی تفصیلات کے مطابق سال2015-16 میں ٹی بی کنٹرول ، ہیپاٹائٹس پروگرام ، لیڈی ہیلتھ ورکرز اوراین سی ایچ پروگرام غیرترقیاتی بجٹ کا حصہ ہونگے،حفاظتی ٹیکوں اور ملیریا کنٹرول سمیت 9 پروگرام بجٹ میں شامل ہونگے۔رواں مالی سال کی 80 اسکیموں کو ا?ئندہ بجٹ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت ٹیچنگ اسپتالوں کیلئے 236 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ 10 ملین روپے کی لاگت سے قطر اسپتال اورنگی ٹاون میں ترقیاتی کام اورجناح اسپتال میں 30 ملین روپے سے ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا جائیگا۔ چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کیلئے20 ملین روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ دل کے امراض میں مبتلا بچوں کیلیے 40 ملین روپے کی لاگت سے کراچی میں انسٹیٹوٹ قائم کیا جائیگا۔سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ایک ہزار943 ملین روپے صوبے کے اسپتالوں پر خرچ ہونگے۔ ٹھٹھہ میں40 ملین روپے سے میڈیکل کالج قائم کرنے کی تجویز ہے۔14 ملین روپے سے بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کیلئے 220 ایکڑ زمین خریدی جائیگی۔ بجٹ میں میڈیکل تعلیم کیلئے 129 ملین روپے مختص کرنے کی تجویزشامل ہے۔ سندھ کے تمام اضلاع میں ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے قیام کیلئے 50 ملین روپے مختص کرنے اور50 ملین روپے نرسنگ کے عملے کی تربیت کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کیلئے ایک ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ڈینگی اور ملیریا سے بچاو اور کنٹرول کے پروگرام پر 250 ملین روپے خرچ ہوں گے،مختلف انسدادی پروگرامز پر ایک ہزار 810 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مختلف منصوبوں کیلئے4 ارب سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…