منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان سے ملاقات کے دوران ٹرمپ کے ایک کروڑ افغانیوں کو قتل کرنے کے بیان پر افغانستان ناراض، اشرف غنی نے بڑا اعتراض اُٹھا دیا

datetime 23  جولائی  2019 |

کابل (آ ن لائن)افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ امریکا کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان سے متعلق اس بیان پر وضاحت کرنی چاہیے، جس میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ با آسانی جنگ جیت سکتے ہیں لیکن وہ ’ایک کروڑ لوگوں کو قتل نہیں‘ کرنا چاہتے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں کچھ حیران کن بیانات دیے،

جس میں ایک بیان یہ بھی شامل تھا کہ ان کے پاس افغان تنازع کے جلد حل کے لیے منصوبے تھے لیکن اس سے یہ ملک ’صفحہ ہستی سے‘ مٹ جاتا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ افغانستان ’ختم ہوجائے گا اور یہ واقعی 10 دن میں ختم ہوجائے گا‘ لیکن ’میں اس راستے پر جانا نہیں چاہتا‘ اور لاکھوں لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتا۔ امریکی صدر کے ان بیانات نے افغانستان میں غم و غصہ کی لہر کی بڑھا دیا ہے، جہاں جنگ زدہ اور پریشان آبادی پہلے ہی امریکی فوج کے انخلا سے متعلق پریشان ہیں کہ آیا وہ دوبارہ طالبان حکومت اور خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ایسی صورتحال میں امریکی صدر کے بیان پر افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت امریکی صدر کے پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران اظہار کیے گئے خیالات پر سفارتی ذرائع اور چینلز کے ذریعے وضاحت کا مطالبہ کرتی ہے‘۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان سے امریکا کو ’نکالنے‘ کے لیے مدد کرے گا اور واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تعقلات میں ’زبردست صلاحیت‘ ہے۔تاہم اشرف غنی نے امریکا کی جانب سے طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو مسلسل درکنار کرنے پر غصے کا اظہار کیا۔افغان صدر کے بیان میں کہا گیا ’افغان حکومت ملک میں قیام امن کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کر رہی ہے تاہم حکومت یہ سمجھتی ہے کہ غیرملکی سربراہان مملکت افغان قیادت کی غیرموجودگی میں افغانستان کی قسمت کے فیصلے کا تعین نہیں کرسکتی‘۔ ادھر افغانستان کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے سفیر امن زلمے خلیل زاد افغان امن عمل میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے آٹھویں دورسے قبل منگل کو کابل پہنچ گئے۔ تاہم آنے والے دنوں میں ان مذاکرات کا دور دوحہ میں ہونے کا امکان ہے، جہاں اس مرتبہ بھی اشرف غنی اور ان کی انتظامیہ کو اس سے دور رکھا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…