جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

قبائلی اضلاع میں الیکشن کا رزلٹ، ڈائریکٹر الیکشنز نے بڑا اعلان کردیا‎

datetime 20  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈائریکٹر الیکشنز چوہدری ندیم قاسم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کا رزلٹ آنے میں ایک دن لگ سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں موبائل نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، چوہدری ندیم قاسم نے کہاکہ قبائلی اضلاع میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں رات کو سفر نہیں کیا جا سکتا، گنتی کا عمل مکمل ہونے اور فارم 45 ریٹرننگ افسران کے پاس پہنچنے پر رزلٹ مرتب کیا جائے گا،

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی نتائج مرتب ہوں گے ان کا سرکاری طو رپر اعلان کر دیا جائے گا۔الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کنٹرول روم کا دورہ کیا اور پولنگ کے دوران شکایات سے متعلق دریافت کیا۔ حکام نے بتایاکہ قبائلی اضلاع میں پولنگ کے دوران 4 شکایات موصول ہوئیں۔الیکشن کمیشن کے باہر ڈائریکٹر الیکشنز چوہدری ندیم قاسم نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع میں پولنگ کا عمل بخیر عافیت مکمل ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کیا گیا تھا جو انتخابات کو مانیٹر کر رہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ پورے دن میں 4 شکایات موصول ہوئی ہیں جو معمولی نوعیت کی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ قانونی طور پر نتائج کو الیکٹرانک طریقے سے بھیجنا ہے۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے 7 قبائلی اضلاع اور ایک ایف آر ریجن میں صوبائی اسمبلی کی 16 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوئے، ان 16 نشستوں کے لیے 282 امیدوار میدان میں اترے۔ قبائلی اضلاع میں پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ ووٹ ڈالنے والے افراد کا جوش و خروش دیدنی تھا، پولنگ اسٹیشنز کے باہر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں، سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات تھے، مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود لوگوں کو ووٹ ڈالنے دیا گیا،

ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق باجوڑ، مہمند، خیبر، ضلع کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور ایک ایف آر ریجن میں الیکشن کے لیے 18 سو 96 پولنگ اسٹیشنز تھے۔ 554 پولنگ سٹیشنز کو حساس ترین اور 461 کو حساس قرار دیا گیا تھا جہاں پر پاک فوج نے اپنے فرائض انجام دیے۔ پولنگ سٹیشنز کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے گئے تھے۔اس تاریخ ساز الیکشن میں ووٹرز کی تعداد28 لاکھ تھی اور 282 امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا اور خواتین ارکان بھی شامل تھیں۔اس الیکشن میں تحریک انصاف 16، جے یو آئی کے 15، پیپلز پارٹی کے 13، اے این پی کے 14 اور قومی وطن پارٹی کے 3، مسلم لیگ ن کے 5، جماعت اسلامی کے 13 امیدواروں کے علاوہ 202 آزاد امیدواروں نے حصہ لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…