جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

جس سے پوچھو پیسہ کہاں سے آیا، کہتا ہے پرائز بانڈ میں انعام نکلا،اب 50ہزار کی شاپنگ کرنیوالے کو کیا کرنا ہوگا؟حکومت نے بڑی پابندی کا اعلان کردیا

datetime 19  جولائی  2019 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبرزیدی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک سیمی مینوفیکچرنگ سے ٹریڈنگ ملک بن چکا ہے،ہم چاکلیٹ،منرل واٹر اور جوتوں سمیت ہر چیز درآمد کررہے ہیں،یہ انتہائی خطرناک بات ہے اسطرح تو کوئی ملک بھی نہیں چل سکتا۔پائیدار ترقی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی)کے زیر اہتمام معیشت سے متعلق سیمنیار سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ

گزشتہ برس پاکستان کی درآمدات 51 ارب ڈالرز رہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات محض 21 ارب ڈالرز تک تھیں۔ درآمدات اور برآمدات کے فرق کو کم کرکے برآمد ات بڑھانا ہونگی۔ایف بی آر کے چیئرمین شبرزیدی نے کہا کہ 50 ہزار کی شاپنگ پر شناختی کارڈ دکھانا پڑے گا، شناختی کارڈ کی شرط ختم نہیں کرسکتے، آسان تھا کہ ٹیکس 17 سے بڑھا کر18 فیصد کردیتے،لیکن ٹیکس آمدن بڑھا نے کا مشکل کام کیا، ٹیکس تودینا پڑے گا، دکان کی یومیہ آمدن ایک لاکھ اورسالانہ ٹیکس لاکھ سے بھی کم ہے۔میں واضح کردوں کہ ویلتھ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔ شناختی کارڈ کو ختم کرنے کا مطالبہ نہیں مان سکتے۔ ہر کوئی کہتا کہ شناختی کارڈ کی بجائے این ٹی این نمبر کی شرط لگا دیں۔ لیکن شناختی کارڈ دکھانے میں مسئلہ کیا ہے؟ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہم نے 40 ہزار کے پرائز بانڈ ختم کردیے، جس سے پوچھو پیسہ کہاں سے آیا، کوئی کہتا پرائز بانڈ میں انعام نکلا، کوئی کہتا جاننے والے نے گفٹ دیا۔ میں بتا دوں ہمارا تو آج تک کوئی انعام نہیں نکلا۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنیوالی ترسیلات زر سے کبھی کوئی سوال نہیں کیا گیا اس لیے اس سے حوالہ اور ہنڈی کے کاروبار میں اضافہ ہوا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا بھی غلط استعمال کیا گیا۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ ہمارے ساتھ ہے،ملک میں کاروباتی طبقہ ہم سے زیادہ باخبر ہے، گزشتہ کئی ہفتوں سے روزانہ کئی وفود میرے دفتر آ کر مختلف ٹیکس ختم کرنے کے مطالبہ کرتے ہیں،ہمیں ملک میں معیاری ٹیکس نظام قائم کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ وسائل اور دولت کی توازن تقسیم صرف یکساں طور پر ٹیکس جمع کرنے سے ہی ممکن ہے، لاہور کی 9 بڑی مارکیٹوں کی فہرست مرتب کی ہے جو کہ سالانہ ایک لاکھ سے بھی کم ٹیکس ادا کر رہی ہیں۔ ہم نے پاکستان میں ٹیکس نیٹ کی معلومات یا ڈیٹا پر کوئی کام نہیں کیا۔شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان میں 1 لاکھ کمپنیاں رجسٹرڈہیں تاہم ٹیکس ادا کرنی والی کمپنیاں کم ہیں،وسیع پیمانے پر ٹیکسیشن کے نظام کو متعارف کرانا ماضی میں ہمارا مضمون ہی نہیں رہا مگر اب یہ ناگزیر ہوچکاہے

ہمیں ٹیکس نیٹ میں ہر حال اضافہ کرنا ہوگا۔عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کنٹری ڈائریکٹر ٹیریسا ڈیبان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کا آخری پروگرام کامیابی سے مکمل کیا۔ 2016 کے بعد پاکستان کی معیشت خراب ہونا شروع ہوئی اورپاکستان کے بجٹ خسارہ میں اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کی کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان کیسرکاری اداروں کے نقصانات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں اورٹیکس وصولیوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ملکی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ

پاکستان کے قرضے بلحاظ جی ڈی پی 80 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ سود کی ادائیگیوں پر 25 فیصد بجٹ خرچ کیا جا رہا ہے جو کسی طور بھی معیشت اور پائیدار ترقی کے لیے اچھا نہیں ہے۔عالمی مالیاتی ادارے کی کنٹری ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ تجارتی خسارے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اورحکومت کے پاس درآمدات کے پیسے ادا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے معاشی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے، کچھ اقدامات کے باوجود معاشی مسائل مکمل حل نہیں ہوسکے۔ اسٹیٹ بنک نے مانیٹری پالیسی کے ذریعے شرح سود بڑھائی ہے دیکھنا ہوگا اس کا معشیت پر کیا اثر پڑتاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…