پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان میں پولیو کیسز میں 70 فیصد کمی آئی، ڈبلیو ایچ او

datetime 4  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز میں نمایاں کمی دیکھی جارہی ہے جس کی وجہ ان علاقوں تک بچوں کو پولیو ویکسین پلانے والے رضاکاروں کی رسائی بتائی جارہی ہے جو عسکریت پسندوں کے حملوں کے باعث ان کی پہنچ سے باہر تھے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق یکم جنوری سے صرف 24 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 70 فیصد کم ہے جب اسی دورانیے میں 84 کیسز سامنے آئے تھے۔پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو ابھی بھی وبا کی صورت میں موجود ہے۔ گزشتہ سال ملک میں اس مرض کے 306 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔پولیو ٹیموں کو عسکریت پسندوں کی جانب سے خطرے کا سامنا رہتا ہے جن کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے ان کی جاسوسی کی جاتی ہے۔دسمبر 2012 کے بعد سے پولیو ٹیموں پر حملوں کے نتیجے میں 78 افراد مارے جاچکے ہیں۔پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے سینئر کوارڈینیٹر الیس ڈوری نے کیسز میں کمی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات سے نتائج حاصل ہورہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں پاکستان میں پولیو کیسز میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔پاکستان نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے ڈبلیو ایچ او کے ڈیٹا کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘2013 اور 2014 میں پروگرام پر دباو¿ تھا لیکن 2015 میں وائرس پر دباو¿ ہے۔’ڈوری کے مطابق کیسز میں نمایاں کمی کی بڑی وجہ ان علاقوں تک رسائی ہے جہاں پہلے پولیو ٹیمیں پہنچ نہیں پاتی تھیں۔پاکستانی فوج نے گزشتہ سال جون میں شمالی وزیرستان میں بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کیا تھا جس کے باعث لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر دیگر ضلعوں میں منتقل ہوئے۔شمالی وزیرستان چھوڑنے والے تمام افراد کو خیبرپختونخوا صوبے میں داخلے سے قبل پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے۔ڈوری کا مزید کہنا تھاکہ کراچی میں بھی بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…