پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

سمگلنگ کا انوکھا طریقہ : سمگلر کی وگ سے 34 ہزار ڈالرز کی کوکین برآمد

datetime 17  جولائی  2019 |

بارسلونا (این این آئی)منشیات کے سمگلر ایئر پورٹ سکیورٹی اہلکاروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں، لیکن سکیورٹی اہلکار بھی سمگلروں کے ان ہتھکنڈوں سے اچھی طرح واقف ہیں اور وہ ان کا بھانڈا پھوڑنے میں دیر نہیں لگاتے۔سپین کے شہر بارسلونا میں ایئرپورٹ حکام نے ایک ایسے کولمبین شہری کو گرفتار کیا ہے جس نے قریباً ایک پاؤنڈ کوکین اپنی وگ میں چھپائی رکھی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کو سمگلر پر اس لیے شک ہوا کیونکہ وہ بہت پریشان دکھائی دے رہا تھا اور اس کے سر پر لگی وگ کا سائز بھی غیر معمولی تھا۔سکیورٹی اہلکاروں نے سمگلر سے تفتیش شروع کی اور اس کے سر پر ٹیپ سے چپکے ہوا ایک کوکین کا پیکٹ برآمد کر لیا جس کا وزن آدھا کلو گرام یا 1.1 پاؤنڈ تھا جس کی مارکیٹ میں قیمت 34 ہزار ڈالرز یا 30 ہزار یوروز ہے۔پولیس نے اسے آپریشن ٹوپی ( Toupee) یعنی آپریشن وگ کا نام دیا ہے۔ سمگلر کو بارسلونا کے ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا جو بوگوٹا سے آ رہا تھا۔گرفتار ہونے والے 65 سالہ سمگلر کا تعلق کولمبیا سے ہے-سپین کے جنوبی امریکہ اور خصوصاً کولمبیا کے ساتھ لسانی اور تاریخی روابط ہیں، سپین کو یورپ میں کوکین کی سمگلنگ کا گیٹ وے کہا جاتا ہے۔سمگلر کوکین کی سمگلنگ کے لیے آئے روز نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پولیس نے کھوکھلے انناناس میں سے کوکین برآمد کی، پھر سکیورٹی اہلکاروں ایک وہیل چیئر کے کشن میں چھپائی گئی کوکین ملی، ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر چڑھائے جانے والے پلاسٹر میں سے کوکین برآمد ہوئی اور تو اور پولیس نے برتنوں میں کوکین بھر کر لے جاتے ہوئے بھی سمگلروں کو گرفتار کیا۔واضح رہے کہ یورپی یونین کی ایک رپورٹ کے مطابق سپین یورپی یونین میں کوکین استعمال کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر آتا ہے۔ اس فہرست میں برطانیہ کا پہلا نمبر ہے اور اس کے بعد ہالینڈ، ڈنمارک، فرانس اور آئر لینڈ آتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…