پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

جج ارشد ملک کو بلیک میل کرنے کیلئے استعمال کی جانے والی ویڈیو میں کیا تھا، ویڈیو کب اور کس شہر میں بنائی گئی؟ معروف صحافی کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 15  جولائی  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کچھ دن پہلے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو پریس کانفرنس کے دوران پیش کی، اس مبینہ ویڈیو کی وجہ جج ارشد ملک کو کام سے روک دیا ہے، اس سارے معاملے پر تبصرہ کرتے سینئر کالم نویس و تجزیہ نگار ایاز امیر نے کہا کہ فی الحال صرف مریم نواز کے لگائے ہوئے الزامات ہیں، اس معاملے میں مریم نواز اور ارشد ملک کا موقف الگ الگ ہے،

انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ ویڈیو جعلی تھی بلکہ وہ ویڈیو اخلاق سے گری ہوئی تھی اور کہا گیا کہ گن پوائنٹ پر ویڈیو نہیں بنائی گئی، ایاز امیر نے کہا کہ وہ ویڈیو دیکھیں معلوم ہو گا کہ اتنی تو بندوق بھی نہیں لگتی، انہوں نے کہا کہ جس ویڈیو سے جج ارشد ملک کو بلیک میل کیا گیا وہ ویڈیو اس وقت کی تھی جب وہ ملتان میں تعینات تھے، ایاز امیر نے کہا کہ وہ اپنی ویڈیو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے، انتہائی غیر اخلاقی ویڈیو تھی، انہوں نے کہا کہ اس ویڈیو میں سنی لیون ہے یہ ارشد ملک نہیں کہہ رہے بلکہ وہ یہ مان رہے ہیں کہ یہ ان کی ویڈیو ہے، اس ویڈیو کی بناء پر انہوں نے جج ارشد ملک کو ڈرایا دھمکایا اور خریدنے کی کوشش کی۔ معروف صحافی نے کہا کہ جج ارشد نے کہا کہ میں وہ ویڈیو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے لیے آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے۔جمعرات کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے لیے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت ہر صورت اس معاملے کی تحقیقات کرائے، جج ارشد ملک نے جو پریس ریلیز میں رشوت کی آفر کرنے کی بات کی ہے وہ سنجیدہ نوعیت کی ہے، جج ارشد ملک اپنی پریس ریلیز میں مریم نواز کے لگائے گئے الزمات ماننے سے انکار کرچکے ہیں لہذا جو الزامات عدلیہ پر لگائے گئے اس کی

تحقیقات کا ہونا ضروری ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ 6 جولائی کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ پیمرا سے طلب کیا جائے، اس ویڈیو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عدلیہ آزادی سے کام نہیں کرتی اور بلیک میل ہوتی ہے لہذا وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے اقدامات کرے۔درخواست میں ویڈیو کے مرکزی کردار وفاقی حکومت، پیمرا، ناصر بٹ، شہباز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفر الحق کو فریق بنایا گیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…