بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

جج ارشد ملک کو بلیک میل کرنے کیلئے استعمال کی جانے والی ویڈیو میں کیا تھا، ویڈیو کب اور کس شہر میں بنائی گئی؟ معروف صحافی کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 15  جولائی  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کچھ دن پہلے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو پریس کانفرنس کے دوران پیش کی، اس مبینہ ویڈیو کی وجہ جج ارشد ملک کو کام سے روک دیا ہے، اس سارے معاملے پر تبصرہ کرتے سینئر کالم نویس و تجزیہ نگار ایاز امیر نے کہا کہ فی الحال صرف مریم نواز کے لگائے ہوئے الزامات ہیں، اس معاملے میں مریم نواز اور ارشد ملک کا موقف الگ الگ ہے،

انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ ویڈیو جعلی تھی بلکہ وہ ویڈیو اخلاق سے گری ہوئی تھی اور کہا گیا کہ گن پوائنٹ پر ویڈیو نہیں بنائی گئی، ایاز امیر نے کہا کہ وہ ویڈیو دیکھیں معلوم ہو گا کہ اتنی تو بندوق بھی نہیں لگتی، انہوں نے کہا کہ جس ویڈیو سے جج ارشد ملک کو بلیک میل کیا گیا وہ ویڈیو اس وقت کی تھی جب وہ ملتان میں تعینات تھے، ایاز امیر نے کہا کہ وہ اپنی ویڈیو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے، انتہائی غیر اخلاقی ویڈیو تھی، انہوں نے کہا کہ اس ویڈیو میں سنی لیون ہے یہ ارشد ملک نہیں کہہ رہے بلکہ وہ یہ مان رہے ہیں کہ یہ ان کی ویڈیو ہے، اس ویڈیو کی بناء پر انہوں نے جج ارشد ملک کو ڈرایا دھمکایا اور خریدنے کی کوشش کی۔ معروف صحافی نے کہا کہ جج ارشد نے کہا کہ میں وہ ویڈیو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے لیے آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے۔جمعرات کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے لیے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت ہر صورت اس معاملے کی تحقیقات کرائے، جج ارشد ملک نے جو پریس ریلیز میں رشوت کی آفر کرنے کی بات کی ہے وہ سنجیدہ نوعیت کی ہے، جج ارشد ملک اپنی پریس ریلیز میں مریم نواز کے لگائے گئے الزمات ماننے سے انکار کرچکے ہیں لہذا جو الزامات عدلیہ پر لگائے گئے اس کی

تحقیقات کا ہونا ضروری ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ 6 جولائی کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ پیمرا سے طلب کیا جائے، اس ویڈیو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عدلیہ آزادی سے کام نہیں کرتی اور بلیک میل ہوتی ہے لہذا وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے اقدامات کرے۔درخواست میں ویڈیو کے مرکزی کردار وفاقی حکومت، پیمرا، ناصر بٹ، شہباز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفر الحق کو فریق بنایا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…