بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

شہباز شریف کے اثاثے منجمد کر نے کا فیصلہ،جائیدادیں منجمد کرنے کے بعد کیا، کیاجائے گا؟نیب نے تیاریاں شروع کردیں 

datetime 15  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) نے مختلف ریفرنسز کا سامنا کرنے والے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق نیب حکام نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے لاہور میں 96 ایچ کے بعد 2 مزید پراپرٹیوں اور گاڑیوں کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے علاوہ ملکہ کوہسار مری میں بھی شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کی جائیدادوں کو بھی منجمد کیا جائے گا،

اسلام آباد میں بھی موجود ایک جائیداد کو منجمد کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جائیدادیں منجمد کرنے کے بعد ان کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے عدالت سے اجازت لی جائے گی۔علاوہ ازیں شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف زیر استعمال لگڑری گاڑیوں کو بھی منجمد کرکے تحویل میں لینے کی درخواست عدالت سے کی جائے گی۔واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے رواں سال 14 فروری کو آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا،شہباز شریف کو 5 اکتوبر 2018 کو نیب لاہور نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں حراست میں لیا تھا۔شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد نیب کے بیان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا کنٹریکٹ لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کر کے کاسا ڈیولپرز کو دیا جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا جس کے لیے مزید تفتیش درکار ہے۔شہباز شریف کو نیب نے جنوری 2016 میں پہلی مرتبہ طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا اور لاہور کی کاسا کپمنی کو جو پیراگون کی پروکسی کپمنی تھی کو مذکورہ ٹھیکہ دیا۔شہباز شریف کو احتساب عدالت کی جانب سے گزشتہ سال 6 دسمبر 2018 کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا گیا تھا۔قومی احتساب ادارے نے شہباز شریف کو تقریباً 80 روز تک اپنے حراست میں رکھا تھا۔نیب نے الزام عائد کیا تھا کہ شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر رہتے ہوئے ضلع چنیوٹ کے نکاسی ا?ب کا نظام تعمیر کرنے کی ہدایت دی تھی جس کا استعمال ان کے بیٹوں کی ملکیت میں کمپنی رمضان شوگر ملز نے کرنا تھا۔نیب کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے لیے قومی خزانے کے 20 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…