منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ترک صدر نے شامی پناہ گزینوں پرعرصہ حیات تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا

datetime 14  جولائی  2019 |

انقرہ (این این آئی)ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن یہ دعویٰ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ انہوں نے شامی پناہ گزینوں کی مدد ونصرت میں انصار ومہاجرین کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کی روایت زندہ کی ہے۔ مگر تْرک صدر کے شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے اقدامات نے ان کے بھائی چارے کے دعوے کی قلعی کھول دی ہے۔ ترک صدر نے شامی پناہ گزینوں کو اسپتالوں میں علاج کے لیے

ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ واپس لینے کے ساتھ انھیں بڑی تعداد میں ملک سے بے دخل کرنے کا پلان تیار کیا ہے۔ترک اخبارکے مطابق صدر نے حکمران جماعت آق کے ایک اجلاس کی صدارت کی اور شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے نئے لائحہ عمل پرغور کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے بعض دوسرے رہ نماؤں نے بھی شامی پناہ گزینوں کے معاملے میں منفی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان سے متعلق پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔پارٹی رہ نماؤں کی تنقید کے بعد صدر ایردوآن نے کہا کہ شامی پناہ گزینوں کے لیے ترکی کے دروازے کھولنا ضروری تھا مگر ہم اس کے نتائج سے بے پروا نہیں تھے۔ ہم نے شامی بھائیوں کی مدد کی۔ اگرہم ایسے حالات سے دوچار ہوتے تو وہ اسی طرح اپنے دروازے ہمارے لیے کھول دیتے۔انھوں نے کہا کہ اب شام میں حالات بدل رہے ہیں۔ ہم شامی پناہ گزینوں کو واپسی کی ترغیب دیں گے۔ جو جرائم میں ملوث پایا گیا اور غیر قانونی طریقے سے ترکی میں قیام کی کوشش کی تواسے بے دخل کر دیا جائے گا۔ اسی طرح علاج کے لیے ترکی کے اسپتالوں میں دی گئی مراعات اور ٹیکسوں میں چھوٹ واپس لے لی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…