منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ایک تہائی مقبوضہ جموں و کشمیر ہمارے ساتھ نہیں ہے، بھارتی وزیر داخلہ نے بڑا اعتراف کرلیا

datetime 6  جولائی  2019 |

نئی دہلی (آن لائن) بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے ’آدھا سچ‘ بولتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ایک تہائی مقبوضہ جموں و کشمیر ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے ذمہ دار نہرو اور کانگریس ہیں۔ انہوں نے دنیا کو یہ بتا کرورطہ حیرت میں بھی ڈال دیا کہ آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ وادی چنار کو حاصل ’خصوصی‘ درجہ عارضی ہے اور یہ مستقل نہیں ہے۔ لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے

سربراہ امیت شاہ نے اعتراف کیا کہ مقبوضہ وادی کشمیر کے لوگوں کا مرکزی حکومت پر اعتماد و بھروسہ نہیں ہے۔امیت شاہ نے اپنے خطاب میں استفسار کیا کہ اگر مقبوضہ وادی کے ایک تہائی افراد بھارت کے ساتھ نہیں ہیں تو اس کا ذمہ دارکون ہے؟ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی کی ترقی اور وہاں کے لوگوں کی خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے کیونکہ وہ دیگر کی نسبت زیادہ مستحق ہیں۔کانگریس کو سخت نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ سابق حکمراں جماعت مقبوضہ وادی میں آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد میں یکسر ناکام رہی تھی البتہ مراد جی ڈیسائی اور اٹل بہاری واجپائی کے ادوار میں مناسب انتخابات کا انعقاد ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں جمہوری طریقہ کار کے تحت آزادانہ و منصفانہ انتخابات اس وقت کرائیں گے جب الیکشن کمیشن تاریخ کا اعلان کرے گا۔مقبوضہ وادی چنار میں اس وقت صدارتی راج قائم ہے جس کی آئینی مدت تین جولائی 2019 کو ختم ہورہی ہے جس کے بعد انتخابات کرانا ضروری ہیں البتہ مرکزی حکومت کو صدارتی راج کی مدت میں توسیع کرنے کا مجاز قرار دیا گیا ہے۔امیت شاہ نے اپنی تقریر کے دوران جب نہرو کا نام لیا تو کانگریس سے تعلق رکھنے والے اراکین نے شدید اعتراض کیا اور ہنگامہ ا?رائی کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…