بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

18 سال سے کم عمر اور مرضی کے بغیر لڑکیوں کی شادی کا رواج ختم ہونا چاہئے، ملالہ یوسفزئی

datetime 6  جولائی  2019 |

پیرس(این این آئی) پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے کہاہے کہ 18 سال سے کم عمر اور مرضی کے بغیر لڑکیوں کی شادی کا رواج ختم ہونا چاہئے ۔تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے امن کی پیامبر ملالہ یوسفزئی جی سیون سمٹ میں شرکت کیلئے فرانس میں ہیں جہاں انہوں نے فرانس کے صدر میکرون سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں نوجوانوں بالخصوص لڑکیوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملالہ یوسفزئی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ فرانس کے صدر صنفی امتیاز ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ملالہ نے بتایا کہ صدر میکرون نے

مغربی افریقہ میں بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر اور مرضی کے بغیر لڑکیوں کی شادی کا رواج ختم ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ مذہب بھی ایک ذاتی انتخاب کا معاملہ ہے کسی بچے پر کوئی بھی مذہب اختیار کرنے یامذہب تبدیل کرنے کا دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔ملالہ نے کہا کہ ناصرف پاکستان میں ہندو اور میانمار میں عیسائی لڑکیوں سے زبردستی مذہب تبدیل کرانا قابل مذمت ہے بلکہ پوری دنیا میں جہاں بھی ایسا ہو وہ قابل مذمت ہے اور ہمیں اس کی مخالفت کرنی چاہئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…