بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

روس نے امریکہ کو اب تک کا سب سے بڑا سرپرائز دے دیا،ایران اور روس کے درمیان ہتھیاروں کی خفیہ ڈیل آخری مرحلے میں داخل 

datetime 5  جولائی  2019 |

تہران /ماسکو (این این آئی)باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان ہتھیاروں کی خرید وفروخت کی ایک خفیہ سودے پر کام ہو رہا ہے۔ یہ سودا اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی اور روسی حکام نے حالیہ عرصے کے دوران اسلحہ کی ڈیل کے حوالے سے تفصیلی مذاکرات کیے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق روس اور ایران کے درمیان اسلحہ کی خفیہ ڈیل کے حوالے سے خبر کا انکشاف روسی ذرائع ابلاغ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق روسی اسلحہ ساز کمپنی”روس اپارون“ ایرانی رجیم کے ساتھ اسلحہ کی فروخت کے معاہدے کے آخری مرحلے میں ہے۔ اس ڈیل میں روسی کمپنی ایران کو دفاعی اور پیشگی حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار فراہم کرے گی۔عرب ٹی وی کے ذرائع کے مطابق ایران کو پیشگی حملے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیار فراہم کرنا غیر قانونی ہے کیونکہ سلامتی کونسل کی قراداد 2231 میں ایران کو اس نوعیت کے ہتھیاروں کی فروخت ممنوع قرار دی گئی ہے۔ جب تک سلامتی کونسل اس کی اجازت نہیں دے گی کوئی ملک ایسے مہلک ہتھیار تہران کو فروخت نہیں کرسکتا۔اطلاعات کے مطابق مذکورہ دفاعی ڈیل کے حوالے سے ماسکو اور تہران کے درمیان رابطے مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھے گئے تاکہ ایران، روس سے ایسے ہتھیار خرید سکے جنہیں وہ عالمی قانون کے تحت حاصل کرنے کا مجاز نہیں۔یہ ڈیل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔ اس ڈیل میں روس کے بڑے اور عالمی سطح کے ہتھیار شامل ہیں۔ ان میں فضائی دفاعی نظام ”ایس 400“، سوخوئی جنگی طیارے، فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سیٹلائٹس اور آبدوزیں بھی شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسلحہ کی مذکورہ ڈیل کے حوالے سے بات چیت دونوں ملکوں میں اعلیٰ سطحی حکام کے درمیان ہوئی۔ ایران کی طرف سے اسلحہ کے حصول کے لیے مذاکرات وزیر دفاع امیر حاتمی نے کیے۔ اس سودے کی مالیت ساڑھے چار ارب ڈالر ہے۔ ایران یہ رقم نقد کے بجائے خام تیل اور دیگر سامان کی شکل میں ادا کرے گا۔

ایران اور روسی اسلحہ ساز کمپنی روس اپارون ایکسپورٹ کے درمیان مذاکرات رواں سال فروری سے جاری ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق روسی حکام کی طرف سے ایران کے ساتھ اسلحہ کی کسی میگا ڈیل کے حوالے سے خبروں کی تردید کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہیکہ مذکورہ ڈیل میں سوخوئی 24 اور مگ 29 طیاروں کی مرمت کی ڈیل کی جا سکتی ہے۔روسی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے تین سال قبل ماسکو سے سوخوئی طیارے، جنگی ہیلی کاپٹر، بحری جہازوں کو تباہ کرنے والا دفاعی نظام اور سمندر میں استعمال ہونے والے میزائل فروخت کرنے کی درخواست کی تھی۔ کرملین نے اس درخواست پرغور کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے اسلحہ کے حصول کی درخواست دی گئی ہوگی مگر اس پرعمل درآمد میں کافی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…