بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

منیٰ میں حجاج کرام کے لئے لگائے کثیر منزلہ خیموں میں نئی سہولیات متعارف

datetime 3  جولائی  2019 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کی حکومت حج کا سیزن آتے ہی حجاج کرام کی سہولت کے لیے متحرک ہو جاتی ہے۔ اللہ کے مہمانوں کو زیادہ سے زیادہ آسانی اور سہولیات فراہمی کا مشن لیے سعودی حکومت امسال ایک نئے پروجیکٹ پرکام کر رہی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق

یہ منصوبہ منیٰ کے مقام پر حجاج کرام کے لیے کثیرمنزلہ خیمہ بستی بسانے کا ہے۔ حج کے موسم میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے۔ کثیر منزلہ خیمے لگانے کا مقصد منیٰ میں حجاج کرام کے قیام کی زیادہ سے زیادہ گنجائش پیدا کرنا ہے۔ یہ خیمے کئی جدید خصوصیات کے حامل ہیں۔ انہیں ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ حسبِ ضرورت کھولا اور جوڑا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خیمے فائر پروف ہیں۔حجاج کرام کے لیے تیار کردہ خیموں میں خوراک کی فراہمی میں تاخیر سے نمٹنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ خیموں میں خوراک کا سامان فراہم کرنے کے ساتھ ریفریجیریٹر اور خوراک کو ٹھنڈہ رکھنے کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا ہے۔درایں اثناء سعودی عرب کی وزارت حج وعمرہ کے مشیر حاتم القاضی نے عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منیٰ میں کثیر منزلہ رہائشی خیموں اور شیلٹرز کا پہلی بار تجربہ کیا جا رہا ہے۔ امسال محدود پیمانے پر حجاج کرام اس سہولت سے مستفید ہوں گے تاہم تجربے کی کامیابی کی صورت میں مستقبل میں اس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ عازمین حج اس سہولت کو استعمال کر سکیں۔ادھر حج فائونڈیشن برائے جنوبی ایشیا کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر داکٹر رافت بدر کا کہنا تھا کہ کثیر منزلہ خیمے پہلی بار مشاعر 1 میں لگائے جائیں گے۔فائونڈیشن مشاعر منٰی میں 20 کثیر منزلہ خیمے لگانے میں سعودی حکومت کی معاونت کر رہی ہے۔ سعودی وزارت حج کے تعاون سے رواں سال ان خیموں سے 3000 حجاج کرام مستفید ہوں گے۔ان موبائل خیموں میں شمسی توانائی کے ذریعے روشنی فراہم کی جائے گی۔ ان میں 21 ٹوائلٹ، 14 باورچی خانے اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ آنے والے برسوں میں اس منصوبے کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…