جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

رانا ثناء اللہ پر بنائے گئے کیس کی سزا موت ہے، آصف زرداری

datetime 2  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)سابق صدر آصف علی زرداری نے رانا ثناء اللہ کی منشیات کیس میں گرفتاری کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بھونڈا اور نرالا الزام ہے، کیا رانا ثناء اللہ اپنے ہی گاڑی میں منشیات لیکر جاسکتے ہیں؟ رانا ثناء اللہ کے کیس کی سزا سزائے موت ہے۔

ان خیالات کا اظہار آصف زرداری نے منگل کے روز احتساب عدالت میں آمد کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کے ساتھ جو ظلم ہوا اس کی شدید مذمت کرتاہوں کیونکہ ان پر جو الزام لگایا گیا وہ بہت نرالا اور بھونڈا ہے کہ رانا ثناء اللہ اپنی ہی گاڑی میں منشیات لیکر جارہے تھے کیا کوئی اپنی گاڑی میں منشیات لیکر جائے گا؟انہوں نے کہا کہ مجھ پر بھی منیشات کا کیس بنایا گیا تھا جس میں مجھے نکلتے 5سال لگ گئے اس وقت میرے کیس کی سزا بھی سزائے موت تھی اور اب رانا ثناء اللہ پر بنائے جانے والے کیس کی سزا بھی سزائے موت ہے، ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ حکومت سے ملک تو چل نہیں رہا لیکن ٹیکس لگائے جارہے ہیں کبھی گاڑیوں پر ٹیکس لگادیا جاتا ہے تو کبھی کسی اور چیز پر۔آصف زرداری وزیر اعظم کی پارلیمنٹ ہاؤس کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے جیسے بندر کے ہاتھ میں استرہ آگیا ہے اور وہ چلتے جارہا ہے لیکن میرے پاس بونگے کی باتیں سننے کیلئے وقت نہیں ہے، ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ گرفتاریاں ہوتی رہتی ہے ہم گرفتاری دے کر بھی مقابلہ کریں گے اور لڑتے رہیں گے، چیئرمین سینٹ کو ہٹائے جانے کے سوال کے جواب میں آصف زرداری نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ کون کہہ رہا ہے کہ چیئرمین سینٹ بچ جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…