جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

ٹرانسپورٹ بھی بند، ہڑتال کا اعلان کردیاگیا

datetime 1  جولائی  2019 |

کراچی (این این آئی) سی این جی کی قیمت میں اضافے کے خلاف کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے آج(منگل) سے ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے جب کہ آن لائن ٹیکسی سروس کریم نے بھی کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری نے کہا ہے کہ سی این جی قیمت میں ہوشربا اضافے کے بعد بسیں چلانا ممکن نہیں، کرایوں میں اضافے کی بات بعد میں طے کریں گے۔

ارشاد بخاری نے کہا کہ سی این جی پمپس مالکان ہلکے ہلکے قیمتیں بڑھاتے رہے ہیں۔ دوسری جانب آن لائن ٹیکسی سروس کریم نے بھی سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ کریم سروس کی جانب سے کراچی کے ڈرائیورز کو نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ سندھ میں ٹیکس نفاذ کے بعد اضافی قیمت عوام سے اضافی کرایوں کی صورت میں لی جائے۔واضح رہے کہ سی این جی پر سیلز ٹیکس کے نئے اضافی ریٹس کے بعد فی کلو سی این جی پر 20 روپے اضافہ ہوا۔علاوہ ازیں ٹیکسوں کے نئے نظام کے خلاف ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری نے ہڑتال کردی جس کے باعث فیکٹریاں مکمل طور پر بند ہوگئیں۔نئی ٹیکس پالیسی کے خلاف فیصل آباد میں آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن (اپٹپما) کی ہڑتال کی اپیل پر ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری مکمل طور پر بند ہوگئیں جن میں ڈائنگ، پرنٹنگ اور بلیچ کی فیکٹریاں شامل ہیں۔دوسری جانب ایمبرائیڈری مشین ایسوسی ایشن نے بھی تین روز سے ہڑتال کا اعلان کیاجبکہ گوجرانوالہ میں بھی 17 فیصد ٹیکس لگانے کے خلاف 35 ہزار سے زائد پاور لومز نے ہڑتال کردی۔ پاور لومز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت بلاوجہ ٹیکس لگا کر مالکان کو تنگ کررہی ہے، پاور لومز بند ہونے سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد مزدور بے روز گار ہوگئے، مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن (اپٹپما) کے چیئرمین حبیب گجر کے مطابق فیصل آباد بھر میں 150 پروسیسنگ یونٹ بند ہیں جبکہ پورے ملک میں تقریبا 600 بڑے یونٹس ہیں جو نئے ٹیکسز کی وجہ سے سب بند ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت 7 دن میں ٹیکسٹائل چین مکمل کرے۔ایسوسی ایشن کے مطابق بجٹ اقدامات، گیس ٹیرف میں اضافے اور ڈالر کی قدر میں ہونے والی نمایاں کمی کے باعث مقامی ڈائنگ اور پرنٹنگ انڈسٹری کی کاروباری لاگت 40فیصد بڑھ گئی ہے جبکہ اس شعبے میں استعمال ہونیوالا خام مال بھی 30فیصد مہنگا ہوچکاہے۔کاروباری لاگت بڑھنے سے ٹیکسٹائل سیکٹر نے اپنی مصنوعات کی ڈائنگ اور پروسیسنگ کے آرڈرز منسوخ کردیئے ہیں یہی وہ عوامل ہیں جسکی وجہ سے ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری نے اپنی فیکٹریوں کو تالا لگانے کا فیصلہ کیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…