ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

لیفٹیننٹ حشام نصیر کی فوجی عدالت سے سزائے موت کیخلاف اپیل،سند ھ ہائی کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 28  جون‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)سندھ ہائیکورٹ نے لیفٹیننٹ حشام نصیر کی فوجی عدالت سے سزائے موت کیخلاف حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے چیف آف نیول اسٹاف اور جیک برانچ سے حکمنامہ طلب کر لیا۔جسٹس ایس حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد سلیم جیسر پر مشتمل ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے روبرو لیفٹیننٹ حشام نصیر کی فوجی عدالت سے سزائے موت کے حکم کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی تو حکومت نے ایک بار پھر ان  کیمرہ ٹرائل کی درخواست کردی۔

عدالت نے ریمارکس دیے حکومت پہلے عدالت کے حکم کی تعمیل کرے، اسکے بعد کوئی درخواست دے۔درخواست گزار کے وکیل محمود اے قریشی نے موقف اختیار کیا کہ معاملے کی حساسیت پر نہیں صرف قانونی نکات پر بحث کرونگا، فوجی عدالت کی کارروائی، فیصلے اور وجوہات کی تحریری نقول فراہم نہیں کی جارہیں، حشام نصیر کو 11 ماہ لاپتہ بھی رکھا گیا۔جیک برانچ کے لا افسر نے موقف میں کہا کہ یہ نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ ہے کیس اوپن کورٹ میں نہ سنا جائے۔ وکیل صفائی نے موقف اپنایا کہ یہ کونسا نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ ہے ہم تو قانونی نکات پر بحث کررہے ہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے دیکھنا یہ ہے کہ آرٹیکل 10 اے کے تحت حشام کو شفاف ٹرائل کا موقع دیا گیا یا نہیں، پاک بحریہ کے جواب میں کہا گیا ہے کہ مجرم حشام نصیر کو صفائی کا مکمل موقع دیا گیا اور سزا کے بعد اپیل کا بھی موقع دیا گیا۔ نمائندہ جیک برانچ نے کہا کہ ملٹری کورٹ کے فیصلے میں محض یہ لکھا جاتاہے ملزم مجرم پایا گیا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کا طلب کردہ ریکارڈ موجود ہے تاہم چیمبر میں پیش کرنا چاہتے ہیں، ان حالات میں مناسب ہوگا کہ وہی بینچ اس معاملے کا جائزہ لے جس نے حکم جاری کیا تھا۔عدالت نے چیف آف نیول اسٹاف اور جیک برانچ سے حکمنامہ طلب کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی اور سزائے موت پر عملدرآمد کیخلاف حکم امتناع میں بھی توسیع کردی۔حشام نصیر پر پاکستان نیوی کے بحری جہاز پر حملے میں دہشتگردوں سے تعاون کا الزام ہے۔ فوجی عدالت نے اس الزام میں لیفٹیننٹ حشام نصیر کو سزائے موت سنائی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…