ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملک کو توڑنا نہیں چاہتے مگر ملک میں غلام کی حیثیت سے بھی رہنے کیلئے تیار نہیں،محمود خان اچکزئی شدید مشتعل، انتہائی خطرناک اعلان،سنگین الزامات عائد

datetime 25  جون‬‮  2019 |

کوئٹہ(آن لائن)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کو چلانے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی ہے جس طرح ملک چلا یا جارہا ہے اس طرح ملک نہیں چلا یا جاتا ملک چلانا سیاسی جماعتوں کا کام ہے کسی ادارے کی مداخلت کو برداشت نہیں کرینگے جہاں بھی ظلم ہوگا ہم ان کے خلاف ہوں گے ہم ان کیخلاف ہونگے ملک کو توڑنا نہیں چاہتے مگر ملک میں غلام کی حیثیت سے بھی رہنے کیلئے تیار نہیں ہیں ملک کو قومی کا قید خانہ بنا دیا

اگر اس قید خانے کو سونے کا بھی بنا دیا جائے تو بھی قید خانے میں کوئی اپنی مرضی سے رہنے کیلئے تیار نہیں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ہر ممبر کوبولنے کا حق ہے اور پروڈکشن آڈر پرہر ممبر کا حق بنتا ہے اسپیکر مہربانی کر کے پرڈکشن آرڈر جاری کرے اگر علی وزیر اورمحسن داوڑ کی پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے تو پشتون تاریخ کبھی بھی معاف نہیں کرینگے اگر پاکستان میں جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے مزید مسائل پیدا ہونگے ملک کو چلانے کا واحد راستہ جمہوریت ہے دنیا جہاں نے ترقی کی ہے انہوں نے ملک میں جمہوریت کو مضبوط کیا اور تمام ادارے اپنے اپنے حدود میں رہ کر کام کررہے ہیں مگر بد قسمتی سے اس ملک میں ہر ادارہ حد سے تجاوز کررہی ہے جس کی وجہ سے یہاں مسائل حل نہیں ہورہے پارلیمنٹ کو چلانے کیلئے حقیقی معنوں میں ان کو طاقت کا سرچشمہ بنا نا ہوگا اگر پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہونگے تو جمہوری ادارے کبھی بھی مضبوط نہیں ہوسکتے آل پارٹیز کانفرنس میں جو بھی فیصلہ ہوگا اس کو دیکھا جائے گا ملک کو چلانے کیلئے سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اس وقت ملک بحرانوں کا شکار ہے معاشی حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان خود اور خطہ خطرے میں ہے ان حالات میں اگر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ محکوم اقوام یا پنجاب کے جمہوری اقوام نے

اگر تھوڑی بھی غلطی کی تو یہ ملک نہیں چلے گا انہوں نے کہا کہ جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیا جاسکتا اس وقت تک معاشرے میں ترقی نہیں آئے گی انصاف کے بغیر میاں بیوی کا رشتہ بھی نہیں چل سکتا تو ملک کیسا چلے گا اگر آئین چلنے کے قابل ہے تو بسم اللہ نہیں تو ایک نا آئین نیا عمرانی معاہدہ ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ خطے میں امن ترقی اور خوشحالی لانے کیلئے افغانستان میں سب کو امن کا کردارادا کرنا ہوگا جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوگا اس وقت تک خطے میں امن نہیں آئے گی انہوں نے کہا کہ ملک کو چلانے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی ہے جس طرح ملک چلا یا جارہا ہے اس طرح ملک نہیں چلا یا جاتا ملک چلانا سیاسی جماعتوں کا کام ہے کسی ادارے کی مداخلت کو برداشت نہیں کرینگے جہاں بھی ظلم ہوگا ہم ان کے خلاف ہوں گے ہم ان کیخلاف ہونگے۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…