بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

پٹرول پمپ والے نے 40 لیٹر کے ٹینک میں 43 لیٹر پٹرول ڈال دیا، جب میں نے ڈپٹی کمشنر سے شکایت کی تو انہوں نے مجھے کیا جواب دیا؟ پروڈیوسر و ہدایتکار عاشر عظیم کا ایک دلچسپ واقعہ

datetime 24  جون‬‮  2019 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) اداکار، پروڈیوسر اور ہدایت کار عاشر عظیم نے گفتگو کرتے ہوئے ایک پرانی کہانی سنائی، جس میں انہوں نے کہا کہ جب میں سرکاری افسر تھا، میں سرکاری گاڑی میں پٹرول ڈلوانے ایک پٹرول پمپ پر گیا، جہاں پٹرول ڈالنے والے نے 40 لٹر کی ٹینکی میں 43 لٹر پٹرول ڈال دیا، عاشر عظیم نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ گاڑی میں پٹرول مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوا اور پٹرول ٹینک بھی چالیس لٹر کا ہے،

میری گاڑی میں پہلے بھی پانچ چھ لٹر پٹرول موجود تھا، انہوں نے کہا کہ میں گاڑی کو دھکا لگا کر تو پٹرول پمپ پر نہیں لایا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ میری گاڑی کے ٹینک میں پچاس لٹر پٹرول آ گیا۔ عاشر عظیم نے کہا کہ میں حیران تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے، 25 فیصد یا تو پٹرول پمپ والے تیز ہیں یا پھر کوئی اور مسئلہ ہے، میں نے رسید بنانے کا کہا، اس نے مجھے رسید بنا کر دی اس پر میری گاڑی کا نمبر بھی لکھا، اس نے رسید پر بھی 43 لٹر ہی لکھا جس پر میں نے اس سے سوال پوچھا کہ تم نے چالیس لٹر کے ٹینک میں 43 لٹر پٹرول کیسے ڈال دیا، تم مجھے بوتل میں ویسے ہی ایک دو لٹر پٹرول ڈال دیتے، جس پر اس نے کہا کہ اجازت نہیں ہے بوتل میں پٹرول نہیں دے سکتے، اس سے لوگ بم بناتے ہیں، میں نے اسی کشمکش میں گاڑی ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب موڑ لی، میں نے جا کر ساری کہانی انہیں بیان کی اور کہا کہ اس پٹرول پمپ پر لوگوں سے زیادتی ہو رہی ہے ایک تو پٹرول مہنگا ہے اور دوسری جانب پٹرول پمپ پٹرول چوری کر رہے ہیں اس سے عام آدمی پر بوجھ بڑھے گا، عاشر عظیم نے کہا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کے لیے ہمیں جو پٹرول کا فنڈ ملتا ہے وہ تو ایک دو ماہ میں ہی ختم ہو جاتا ہے، ہم نے باقی سارا سال سرکاری گاڑیاں اور پولیس کی موبائل چلانی ہیں تو ہم اس لیے آنکھیں بند رکھتے ہیں اور پٹرول پمپ والے ہماری گاڑیوں کو پٹرول دیتے رہتے ہیں۔ معروف ہدایت کار عاشر عظیم نے کہا کہ یہ تو ایک مثال ہے میرے پاس ایسی کئی مثالیں موجود ہیں، اس موقع پر انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ایسی حکومت میں پڑ گئے ہیں جہاں عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ جب کسی کو پانچ فیصد چوری کی اجازت ملتی ہے تو وہ پانچ فیصد چوری پر نہیں رکتا بلکہ وہ 20 فیصد چوری کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ان ساری چیزوں کا بوجھ عام آدمی پر آ جاتا ہے، اس طرح سسٹمز نہیں چلتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…