جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

گاڑی مالکان تیاری کر لیں ،رجسٹریشن کیلئے ٹوکن اب کتنے ہزار کا ہوگا ؟

datetime 22  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(سی پی پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اسلام آباد میں گاڑیوں کی رجسٹریشن پر 10 ہزار ٹوکن ٹیکس اور 10 سال سے زیادہ پرانی گاڑی پر 2 ہزار روپے ٹوکن ٹیکس کی تجویز منظور کرلی گئی۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس

گزشتہ روز سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں اسلام آباد میں گاڑیوں کی رجسٹریشن پر 10 ہزار ٹوکن ٹیکس کی تجویز منظور کرلی گئی۔درآمد شدہ ہزار سی سی گاڑی کی رجسٹریشن پر 15 ہزار ٹوکن ٹیکس کی تجویز منظور کی گئی۔ 10 سال تک پرانی گاڑی پر 10 ہزار روپے ٹوکن ٹیکس عائد ہوگا۔ گاڑیوں کا 10 سال میں ادا شدہ ٹیکس 10 ہزار ٹوکن سے شامل کرلیا جائے گا۔اجلاس میں 10 سال سے زیادہ پرانی گاڑی پر 2 ہزار روپے ٹوکن ٹیکس کی تجویز منظور کی گئی۔ مس ڈیکلیئریشن پر منی لانڈرنگ کا قانون لگانے کی تجویز مسترد کردی گئی۔مس ڈیکلیئریشن پر 5 سال کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی تجویز منظور کرلی گئی۔ اجلاس میں کرپٹ ٹیکس افسران کے کیسز نیب و دیگر اداروں کو بھیجنے کی تجویز بھی منظور کرلی گئی۔اس سے قبل قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے گزشتہ اجلاس میں کمیٹی رکن مرزا آفریدی کا کہنا تھا کہ فاٹا علاقوں کو ٹیکس سے استثنی حاصل ہے، فاٹا کی صنعتوں پر 17 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی گئی۔ کمیٹی نے سابق فاٹا میں ٹیکس استثنی برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔گزشتہ اجلاس میں پرانے جہاز کے 100 فیصد وزن کے مطابق جی ایس ٹی کی تجویز کی مخالفت کی گئی تھی۔ انڈسٹری حکام نے بتایا تھا کہ پرانے جہاز کی درآمد پر 3 فیصد کسٹم ڈیوٹی لی جا رہی ہے۔ حکومت خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر چکی ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…