جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بجٹ منظور نہ ہوا لیکن ٹویوٹا اور ہنڈا نےگاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا غیر قانونی اضافے کا اطلاق بینکوں سے اقساط پر بک کی گئی گاڑیوں پرہوگا

datetime 22  جون‬‮  2019 |

ًاسلام آباد( آن لائن ) پاکستان میں فروخت کی جانے والی غیر ملکی کمپنیوں نے وفاقی بجٹ کے فورا بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے جاپانی کمپنیوں ٹیوٹا اور ہنڈا نے قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس غیر قانونی اضافے کا اطلاق بینکوں سے اقساط پر بک کی گئی گاڑیوں پر بھی کر دیا گیا ہے۔

جس سے عام شہریوں پر کافی بھاری بوجھ بڑھ گیا ہے۔ اس حصے سے بنکوں کا سٹاف بجٹ سے پہلے گاڑیاں بک کروانے والے کسٹمرز کو کال کر کے اضافی رقوم طلب کر رہے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ غیر ملکی کار کمپنیوں کے لئے حکمرانوں نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور ان کمپنیوں نے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔موجودگی حکومت بالخصوص وزارت خزانہ کے حکام اس طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور عوام کو لاکھوں روپے کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ کوئی پرسان حال نہیں۔ اصولی طور پر بجٹ پر عملدرآمد یکم جولائی بلکہ 24 جولائی سے ہوتا ہے۔کیونکہ نئے مالیاتی سال کے لئے نئے قوانین یا اضافے کا اطلاق بجٹ کی اسمبلی سے منظوری کے بعد ہی قانونی ہو سکتا ہے۔ کار ڈیلرز سارا الزام حکومتی اداروں اور کار کمپنیوں کے گٹھ جوڑ پر ڈال رہے ہیں۔ اس طرح اندازا ًکار کمپنیاں ارپوں روپے کا اضافی منافع کما لیں گی جس کا قوم کو نقصان اور حکومت کو کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔ گاڑیاں بک کروانے والے کسٹمرز نے حکومت سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق حکمران تو ذاتی فوائد حاصل کر کے عوام پر خاموشی سے بوجھ ڈال دیا کرتے تھے لیکن نئی حکومت میں تبدیلی نظر آنی چاہئے۔زرائع کے مطابق ہنڈا سوک کی قیمت میں 5 لاکھ روپے جبکہ ہنڈا سٹی کی قیمت میں 2لاکھ روپے کا بلاجواز اضافہ کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…