منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات ،کامیاب ہونے والے بڑے بڑے خاندانوں کے جانشینوں کے نام

datetime 31  مئی‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں کوئی بڑا اپ سیٹ نہیں ہو گا، بڑے بڑے خاندانوں کے جانشین کامیاب ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماﺅں کے بیٹے، بھائی اور بھتیجے کامیاب ہو گئے۔ گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان کے بیٹے شمعون یار عباسی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر وارڈ نمبر 8ایبٹ آباد کی نشست پر 2976ووٹ لے کر ضلع کونسل کی نشست پر کامیاب ہو گئے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک یو سی مانکی شریف نوشہرہ سے 3834 ووٹ لے کر ضلع کونسل کی نشست پر کامیاب ہوئے جبکہ پرویز خٹک کے بھتیجے اُحد خٹک یوسی مانکی شریف تحصیل کونسل نوشہرہ کی نشست پر 3826ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ۔جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی عبید الرحمن ڈیرہ اسماعیل خان سے 3100ووٹ لے کر ضلع کونسل کی نشست پر کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنماءانجینئر امیر مقام کے بیٹے نیاز احمد 1228ووٹ لے کر یو سی بنگلہ شانگلہ سے ضلع کونسل کی سیٹ جیتنے پر کامیاب ہو گئے ۔مولانا فضل الرحمان کے سمدھی و سابق ضلع ناظم سینیٹر حاجی غلام فرید کے بیٹے زبیر علی یو سی نمبر 38 پشاور سے 1510ووٹ لے کر ضلع کونسل کی نشست پر کامیاب ہوئے۔سابق صوبائی سپیکر کرامت اللہ چغرمٹی کے بھائی امتیاز اللہ خان یو سی نمبر 9پشاور سے 1955ووٹ لے کر ضلع کونسل کی نشست پر فتح یاب ہوئے۔تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر امان اللہ جدون کے بیٹے علی خان جدون وارڈ نمبر 24 کاکول ایبٹ آباد سے 3210ووٹ لے کر جیت گئے۔ پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر ارباب عالمگیر کے بیٹے ارباب زرق خان وارڈ نمبر 40پشاور سے 1883ووٹ لے کر ضلع کونسل کی نشست پر کامیاب ہو گئے ۔ سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کے چچا زاد بھائی عرفان درانی جے یو آئی(ف) کے ٹکٹ پر ہسانی وارڈ بنوں سے ضلع کونسل کی نشست پر 1902ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔والی سوات میاں گل جہانزیب کے نواسے میاں گل امیر زیب شہریار آزاد حیثیت میں 2579ووٹ لے کر سیدوشریف ضلع کونسل سوات کی نشست پر کامیاب ہوئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…