بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

بڑی سازش بے نقاب! سمندر میں ساڑھے 5ہزار ڈرلنگ کرنے کے بعد عمران خان سے کون سا سچ چھیاپا گیا؟تہلکہ خیز انکشافات‎

datetime 20  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی و تجزیہ کار ذوالفقار راحت نےنجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے عمران خان پر اب ترس آنا شروع ہو گیا ہے، وہ سچے پاکستانی ہیں اور پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو ٹیم ایسی ملی ہے جو اس طرح کے کام کر رہی ہے ۔

جس پر وزیراعظم عمران خان کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس طرف جا رہے ہیں اور ان کی ٹیم کس طرف جا رہی ہے۔بد قسمتی یہ ہےکہ ایک طرف وزیراعظم عمران خان ڈالر کی قیمت پر منی چینجرز سے ملاقات کر رہے تھے اور ان کو کہہ رہے تھے کہ ڈالر کے ریٹ کو کنٹرول کرو وہیں دوسری جانب سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اسی وقت ڈالر کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم عمران خان یہ گلہ کر چکے ہیں کہ ڈالر کا ریٹ بڑھانے کے معاملے پر مجھے آگاہ نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ سمندر سے تیل نکالنے کا پراجیکٹ کافی پرانا ہے لیکن اس دور میں عمران خان نے اس پر فوکس کیا ۔ لیکن آج بھی وزیراعظم عمران خان امید کی بات کر رہے ہیں لیکن اسی وقت ندیم بابر صاحب نے اس کے برعکس بیان دے دیا۔ ندیم بابر جو وزیراعظم کے مشیر ہے ، اس سے پہلے انرجی کی ٹاسک فورس کے چیئرمین تھے۔ وہاں سے اچانک یہ دوسری طرف چلے گئے۔ندیم بابر اس سے پہلے شہباز شریف کے ساتھ تھے جس کے بعد وہ نواز شریف کے پاس چلے گئے۔ جہاں سے وہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔ ایک ہی وقت اور ایک ہی دن میں جہاں وزیراعظم عمران خان قوم کو اُمید دے رہے ہیں اور ان کو خوشخبری دے رہے تھے تو دوسری جانب ندیم بابر اس کے برعکس بیانات دے رہے ہیں۔

ندیم بابر کا کہنا ہے کہ 5500 سے زیادہ گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی اور اب یہ ڈرلنگ بند ہو گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو تاحال نہیں بتایا گیا کہ ڈرلنگ رک گئی ہے جبکہ ندیم بابر کو اس بات کا علم ہے۔ندیم بابر نے اس ڈرلنگ پر آئی لاگت کا بھی بتا دیا ، یعنی حکومت کا اپنا ہی بندہ یہ تفصیلات فراہم کر رہا ہے کہ حکومت کا 14 ارب ضائع ہو گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر ڈی جی پٹرولیم تک کو اس ڈرلنگ کے ٹیسٹنگ کے نتائج سے آگاہ کر دیا گیا ہے تو وزیراعظم عمران خان کو کیوں نہیں آگاہ کیا گیا۔ صاف پتہ چل رہا ہے کہ آخر بیوروکریسی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کر کیا رہی ہے۔ ندیم بابر اور کچھ بیوروکریسی کے لوگ ساتھ ملے ہوئے ہیں اور مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی گیم ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ چند دن پہلے وزارت پٹرولیم نے کیکڑا ون میں تیل اور گیس نہ ملنے کی تصدیق کی تھی تاہم ترجمان نے کہا ہے کہ ابھی 55 میٹر مزید کھدائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…