منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

نئے پاکستان کے رنگ نرالے،سرکاری گاڑی کو ذاتی گاڑی میں تبدیل کرنے کی  انوکھی پالیسی متعارف کروا دی  گئی

datetime 16  مئی‬‮  2019 |

اسلام  آباد(آن  لائن) وفاقی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری پالیسی کی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلی آفیسر نے دھجیاں  اڑا دیں، سرکاری گاڑی کو ذاتی گاڑی میں تبدیل کرکے انوکھی پالیسی متعارف کروا دی جبکہ وزارت کے اعلی حکام لاعلم نکلے اور اس معاملے پر خاموشی اختیار کرلی۔

ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی فضول خرچی پر قابو پانے کیلئے کفایت شعاری کا اعلان کیا تھا اس کے برعکس وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر خورشید نے تمام سرکاری احکامات کی دھجیاں  اڑاتے ہوئے محکمے کی جانب سے ملنے والی سرکاری گاڑی سوزوکی جمنی جیپ نمبر جی ایس 825  نمبری جوان کے زیر استعمال ہے اس کی سرکاری سبز نمبر پلیٹ کو تبدیل کرکے نمبر پلیٹ پرائیویٹ لگوالی اور اسے ذاتی کاموں  کے استعمال کیلئے مختص کردیا ہے حالانکہ سرکاری گاڑی کی سبز نیم پلیٹ تبدیل نہیں کی جاسکتی اور نہ ذاتی استعمال میں لائی جاسکتی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ مذکورہ آفیسر گریڈ 20  کی وجہ سے مونٹایزیشن کی مد میں  تقریبا 65000 ہزار روپے بھی تنخواہ کے ساتھ وصول کررہے ہیں  ۔ اس سلسلے میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں  نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں  معلوم نہیں  معلوم کرکے ہی بتاسکتے ہیں  ۔  وفاقی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری پالیسی کی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلی آفیسر نے دھجیاں  اڑا دیں، سرکاری گاڑی کو ذاتی گاڑی میں تبدیل کرکے انوکھی پالیسی متعارف کروا دی جبکہ وزارت کے اعلی حکام لاعلم نکلے اور اس معاملے پر خاموشی اختیار کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…