بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

چند میرج بیوروغلط استعمال کر رہے ہیں،چین کاپاکستانی حکومت کی ویزا پالیسی پر اعتراض،بڑا مطالبہ کردیا

datetime 14  مئی‬‮  2019 |

بیجنگ(آن لائن)چین نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کو اپنی ویزا پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ چند میرج بیوروز ویزا آنا آرائیول کی پالیسی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ چین کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان زاو نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ پاکستان کو خاص طور پر ان چینی باشندوں کو دیکھنا چاہیے جو وہاں جاکر شادیاں کرتے ہیں، ساتھ ہی یہ معلوم کرنا چاہیے کہ وہ کن کاروباری اداروں اور ایوان صنعت و تجارت کی دعوت پر وہاں ا آئیہیں۔چینی باشندوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادی اور

پھر انہیں زبردستی جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا بیچنے سے متعلق شکایات پر چینی عہدیدار کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس ہمارے پاس 142 کیسز آئے، جن میں سے صرف کچھ ایسے کیسز تھے، جس میں کوئی مسئلہ تھا اور ہم ان تمام کیسز کی تحقیقات کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو ہم مدد کریں گے۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے انٹرنیٹ اور میڈیا پر جھوٹ پھیلایا جارہا ہے کہ پاکستانی لڑکیوں کو زبردستی جسم فروشی یا ان کے اعضا فروخت کرنے کے لیے بھیجا جارہا ہے لیکن یہ خودساختہ ہے۔لی جیان زاو کا کہنا تھا کہ یہ سنسنی پھیلانے کے لیے کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں ہے اور اگر ایسے کوئی ثبوت ہیں تو مجھے فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اس سال چین میں شادی کے لیے ویزوں کے کیسز میں کافی اضافہ ہوا ہے، اس کے لیے ہم نے پاکستانی حکام کو الرٹ کردیا ہے اور اسی لیے پاکستانی ادارے کارروائی کر رہے ہیں، تاہم میرا خیال ہے کہ ہمیں ویزا پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینا چاہیے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو کاروباری ویزا پر ا?ئے ہیں۔اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی کاروبار کے لیے ا?ئے ہیں یا وہ یہاں بیوی کی تلاش میں ا?ئے ہیں۔چینی عہدیدار کا کہنا تھا کہ چینی باشندوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادی کی ا?ڑ میں انسانی اسمگلنگ کی شکایت کے بعد اسلام ا?باد میں موجود چینی سفارتخانے نے 90 پاکستانی ’دلہنوں‘ کے

ویزے روک لیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس سال شادی ویزا کی درخواست میں اضافہ ہوا، گزشتہ سال 142 چینی شہریوں نے اپنی پاکستانی بیویوں کے لیے سفارتخانے سے ویزے لیے تاہم اس سال چند ماہ میں ہی 140 درخواستیں موصول ہوگئی، جس پر چینی سفارتخانہ محتاط ہوگیا اور 90 ویزے روک دیے گئے جبکہ 50 پاکستانی ’دلہنوں‘ کو ویزا جاری کردیا گیا۔ڈپٹی چیف ا?ف مشن کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس کے 142 کیسز میں سے کچھ میں تشدد یا ہراساں کرنے کی شکایات ا?ئیں تاہم

یہ تمام شادیاں قانونی تقاضے پورے کرکے کی گئیں تھیں۔قانونی تقاضوں کے بارے میں مزید واضح کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان تمام چینی باشندوں نے پاکستانی سفارتخانے سے ویزے لیے اور وہ وہاں گئے، پھر وہی یونین کونسل سے نکاح نامے لے کر رجسٹرار کے دفتر گئے، اس کے بعد وہ وزارت خارجہ سے تصدیق کے لیے گئے اور چینی سفارتخانے سے اپنے کاغذات کی تصدیق کروائی، مزید براں انہوں نے اپنی بیویوں کے ویزا کی درخواست دی، اس لیے یہ تمام شادیاں قانونی ہیں اور ہم ان کے تحفظ کی کوشش کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…