اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

چیئرمین شبر زیدی کے اقدامات سے ایف بی آر اور کاروباری برادری کے درمیان اعتماد سازی ہوگی : لاہور چیمبر

datetime 14  مئی‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی کے درست اقدامات اور کاروباری برادری کو عزت و احترام دینے کی ہدایات پر اطمینان کا اظہار کرتے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی بدولت ایف بی آر اور کاروباری برادری کے درمیان اعتماد سازی ہوگی۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی سربراہی سنبھالتے ہی شبر زیدی نے متعلقہ فرد کو نوٹس دئیے اور چیئرمین ایف بی آر کی منظوری کے بغیر عملے کو بینک اکائونٹس تک رسائی سے روک دیا جس سے نہ صرف کاروباری برادری کو بہت بڑا ریلیف ملے گا بلکہ متوازی معیشت کا خاتمہ بھی ہوگا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ٹیکسوں کی بھاری تعداد میں کمی اور ادائیگیوں کے طریقہ کار میں تبدیلی بھی چیئرمین ایف بی آر کی ترجیحات میں شامل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کی ادائیگی کے طریقہ کار کے حوالے سے پاکستان کی عالمی درجہ بندی 173ہے ۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی کاروباری برادری سال میں 47مرتبہ مختلف نوعیت کے ٹیکس ادا کرتی ہے ، اس کے مقابلے ہانگ کانگ کے تاجر سال میں تین، یو اے ای چار، آئرلینڈ نو، ملائشیاآٹھ، انڈیا تیرہ اور سری لنکا کے تاجر سال میں 36مرتبہ ٹیکس ادا کرتے ہیںاور یہ ممالک ہیں جن کے ساتھ عالمی منڈی میں پاکستان کا مقابلہ ہے۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان میں ایک کمپنی، جو چاروں صوبوں میں آپریشنل ہو، اسے سال میں پانچ مرتبہ کارپوریٹ انکم ٹیکس، بارہ مرتبہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ ، بارہ مرتبہ سوشل سکیورٹی، ایک مرتبہ ایجوکیشن سیس، ایک مرتبہ پراپرٹی ٹیکس، ایک مرتبہ وہیکل ٹیکس، ایک مرتبہ سٹیمپ ڈیوٹی اور ایسے ہی کئی دیگر ٹیکسزادا کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروفیشنل اور پراپرٹی ٹیکس کو اکٹھا کردیا جائے، اسی طرح وفاقی اور صوبائی سیلز ٹیکس بھی یکجا کردینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ اور انٹرنیٹ و موبائل بینکنگ کے ذریعے ٹیکسز جمع کروانے کی اجازت دی جائے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے مزید کہا کہ ریٹرن کی فائلنگ کے دو ماہ کے اندر تمام ریفنڈز کلیئر کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکموں کو پابند کیا جائے کہ وہ الیکٹرانک فائلنگ اور آن لائن پیمنٹ کا سسٹم وضع کریں، فزیکل آڈٹ کم کرنے کے لیے رسک مینجمنٹ سسٹم بہتر کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…