اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کے سوا حکومت کے پاس کوئی راستہ نہیں، آئندہ دو سال پاکستان میں کیا ہوگا؟انتہائی خطرناک پیش گوئی کردی گئی

datetime 12  مئی‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) عارف حبیب گروپ کے ڈائریکٹر ریسرچ سمیع اللہ طارق نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے کڑی شرائط پر8ارب ڈالرکے بیل آؤٹ پیکیج پر رضامندی سے جہاں پاکستان کے لیے دنیابھر کی مالیاتی مارکیٹیں کھلیں گی وہیں پاکستان کے عوام کو آئندہ ڈیڑھ سے2سال بدترین مہنگائی کا سامناکرنا پڑے گا۔

خصوصی بات چیت کے دوران انہوں نے  کہا کہ مختلف اہم نوعیت کی کموڈٹیز اورخام تیل کی عالمی قیمتیں اگر قابو میں رہیں تویہ ملکی معیشت کے لیے بہترثابت ہوں گی جس سے رواں سال اور آئندہ سال افراط زر کی شرح 10فیصد پر مستحکم رہے گی اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ بھی کنٹرول میں رہے گا۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے بڑھاکر18فیصد کرنے کے علاوہ ہر شعبے پر عائد ٹیکس کی شرح بڑھانے جیسی شرائط پر عمل درآمد مجبوری ہے کیونکہ حکومت کے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔ جی ایس ٹی سمیت دیگرشعبوں پر ٹیکس کی شرح میں اضافے سے روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی اس طرح سے یہ اقدامات عوام کے لیے غیر معروف ہوں گے جوان اقدامات کی ذمے دار موجودہ حکومت کو ٹھہرائیں گے۔سمیع اللہ طارق نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سلسلہ رک جائے گا تاہم حکومت کو بھی اپنے نظام کو چلانے کے لیے سینٹرل بینک سے قرضوں کے حصول کے نظام کو بہتربنانا پڑے گاکیونکہ گذشتہ ایک سال کے دوران مرکزی بینک سے حکومت نے3200ارب روپے کے قرضے حاصل کیے اس طرح سے حکومتی قرضوں کا مجموعی حجم بڑھ کر6800 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ قرضہ کنٹرول کرنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…