جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کے سوا حکومت کے پاس کوئی راستہ نہیں، آئندہ دو سال پاکستان میں کیا ہوگا؟انتہائی خطرناک پیش گوئی کردی گئی

datetime 12  مئی‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) عارف حبیب گروپ کے ڈائریکٹر ریسرچ سمیع اللہ طارق نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے کڑی شرائط پر8ارب ڈالرکے بیل آؤٹ پیکیج پر رضامندی سے جہاں پاکستان کے لیے دنیابھر کی مالیاتی مارکیٹیں کھلیں گی وہیں پاکستان کے عوام کو آئندہ ڈیڑھ سے2سال بدترین مہنگائی کا سامناکرنا پڑے گا۔

خصوصی بات چیت کے دوران انہوں نے  کہا کہ مختلف اہم نوعیت کی کموڈٹیز اورخام تیل کی عالمی قیمتیں اگر قابو میں رہیں تویہ ملکی معیشت کے لیے بہترثابت ہوں گی جس سے رواں سال اور آئندہ سال افراط زر کی شرح 10فیصد پر مستحکم رہے گی اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ بھی کنٹرول میں رہے گا۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے بڑھاکر18فیصد کرنے کے علاوہ ہر شعبے پر عائد ٹیکس کی شرح بڑھانے جیسی شرائط پر عمل درآمد مجبوری ہے کیونکہ حکومت کے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔ جی ایس ٹی سمیت دیگرشعبوں پر ٹیکس کی شرح میں اضافے سے روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی اس طرح سے یہ اقدامات عوام کے لیے غیر معروف ہوں گے جوان اقدامات کی ذمے دار موجودہ حکومت کو ٹھہرائیں گے۔سمیع اللہ طارق نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سلسلہ رک جائے گا تاہم حکومت کو بھی اپنے نظام کو چلانے کے لیے سینٹرل بینک سے قرضوں کے حصول کے نظام کو بہتربنانا پڑے گاکیونکہ گذشتہ ایک سال کے دوران مرکزی بینک سے حکومت نے3200ارب روپے کے قرضے حاصل کیے اس طرح سے حکومتی قرضوں کا مجموعی حجم بڑھ کر6800 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ قرضہ کنٹرول کرنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…