پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی: نام محمد سب سے زیادہ رکھے جانے والے ناموں میں شامل،دوسرا اور تیسراپسندیدہ نام کون سا ہے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 11  مئی‬‮  2019 |

برلن(آن لائن) جرمنی کے شہربرلن میں گزشتہ سال پیدا ہونے والے زیادہ تر بچوں کے نام ’محمد‘ رکھے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق برلن میں 2018 کے دوران 22177 بچے پیدا ہوئے جن میں سے بیشتر کے نام  آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ? کے نام مبارک پہ رکھے گئے۔برلن میں دوسرا پسندیدہ نام لوئس اور تیسرا پسندیدہ نام ایمیل ریکارڈ کیا گیا ہے۔جرمن سوسائٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق جرمنی کے شمال مغربی شہر بریمن میں بھی پسندیدہ ترین ناموں کی فہرست

میں ’محمد‘ دوسرے نمبر پر رہا ہے۔خبررساں اداروں کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2017 میں لندن اور مغربی مڈ لینڈز میں بھی محمد دس پسندیدہ ترین ناموں میں شامل تھا۔2017 میں  آسٹریا کے اندر بھی پیدا ہونے والے بچوں کے ناموں کے لیے جو مقبول ترین نام تھے ان میں محمد تیسرے نمبر پہ تھا۔ویانا کے بلدیاتی اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے مقبول ترین تین ناموں میں محمد نام شامل تھا۔ دیگر دو مقبول نام الیگزینڈراور میکسی میلین تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…