اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

حادثے میں ہلاک بھائی کا چہرہ عطیہ کرنے والی بہن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

datetime 30  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈاکٹروں نے متاثرہ شخص رچرڈ نورس کا چہرہ ٹھیک کرنے کیلئے 30 سے زائد آپریشن کئے تاہم وہ اس میں ناکام رہے۔ رچرڈ نورس اس صورتحال سے انتہائی افسردہ تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب انہوں نے خود کشی کرنے کی بھی ٹھان لی، تاہم تین سال پہلے ایک آسٹریلوی خاندان ان کیلئے رحمت کا فرشتہ بن کر آیا جس نے ٹریفک حادثے میں ہلاک ہونے والے اپنے بیٹے 21 سالہ نوجوان جوشووا ایورسینو کا چہرہ اسے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن یہاں ایک اور مشکل اس وقت آن کھڑی ہوئی جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ دونوں کے چہرے میں صرف 13 فیصد ہی مماثلت ہے جس کی وجہ سے سرجری بظاہر ناممکن ہے۔ تاہم ڈاکٹروں نے اس مشکل ترین کام کو کرنے کا فیصلہ کیا۔ 2012ءمیں ہونے والی دنیائے طب کی اس مشکل ترین سرجری میں 150 ڈاکٹرز نے حصہ لیا۔ چھتیس گھنٹے کی اس طویل ترین سرجری کے بعد رچرڈ نورس کو نیا چہرہ مل گیا۔ ڈاکٹروں نے چھتیس گھنٹے کے اس طویل آپریشن میں نہ صرف اس چہرہ بدلا بلکہ اس کے دانت، زبان اور جبڑے کی بھی سرجری کی تھی۔ رچرڈ نورس تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد مکمل صحت یاب اور اپنے اس نئے چہرے کے ساتھ بھرپور زندگی گزار رہا ہے۔ حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوان کی والدہ گوین ایورسینو کا غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ میرے خیال سے میں نے اور میرے خاندان نے بالکل ٹھیک فیصلہ کیا تھا۔ اب ہم کسی دوسرے شخص میں اپنے بیٹے کا نہ صرف چہرہ دیکھ سکتے ہیں بلکہ ایک انسانی جان کو بچانے کا ذریعہ بھی بنے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس وقت انتہائی رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے جب حادثے میں ہلاک نوجوان کے ورثاءنے رچرڈ نورس سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ہلاک نوجوان کی ہمشیرہ ربیکا نے اس سے کہا کہ ”یہ تو وہی چہرہ ہے جس کے ساتھ وہ پل بڑھ کر جوان ہوئی تھی”۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…