پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی ٹی وی کے سابق چیئرمین کی خامنہ ای کے صاحبزادے پرکرپشن کی بوچھاڑ

datetime 4  مئی‬‮  2019 |

تہران(این این آئی)ایران کے سرکاری ریڈیو اینڈ ٹیلی ویڑن کارپوریشن کے سابق چیئرمین محمد سرفرازنے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحب زادے اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ مجتبیٰ خامنہ کی ریاستی اداروں میں کرپشن کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہاہے کہ بہت سے

لوگوں کو کرپشن پر زبان کھولنے کی پاداش میں زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کے سابق عہدیدار محمد سرفراز نے بتایا کہ پاسداران انقلاب بدعنوانی کے انسداد کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو ناکام بنانے میں سرگرم ہے تاکہ کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث اہم شخصیات کو بچایا جا سکے۔ اگر ان اداروں کے اندر سے کرپشن کے خلاف کوئی آواز بلند کرنے کی جرات کرتا ہے تو اسے مختلف طریقوں سے خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو کرپشن پر زبان کھولنے کی پاداش میں زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کے افسران دھوکہ دہی اور رشوت کے ذریعے ریڈیو اور ٹیلی ویڑن پرگرامات پر اثر انداز ہوتے۔ انہوں نے9 ملین ڈالر مالیت سے ڈیٹا سینٹر قائم کیا۔ اس کے علاوہ پاسداران انقلاب نے ریڈیو اور ٹی وی کے مختلف منصوبوں میں قریبا 5 کھرب ایرانی ریال کی سرمایہ کاری۔ اس کے علاوہ انہوں نے 515 ملین ریال مالیت سے آئی پی ٹی وی پراجیکٹ شروع کیا۔محمد سرفراز نے بتایا کہ سابق انٹیلی جنس افسر سابق وزیر محنت نے حسین طائب کی ملی بھگت سے پاسداران انقلاب کے ماتحت کمپنیوں کے ٹھیکے حاصل کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی انٹیلی جنس نے شہرزاد میر قولی خان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اسے دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے کوئی ٹینڈر حاصل کرنے کی کی تواسے جاسوسی کیالزام میں گرفتار کر لیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…