اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

تیل کے ذریعے عوام کا تیل کیسے نکالاجارہاہے؟ حکومت کی پٹرول اور ڈیزل پرفی لیٹر اتنی زیادہ کمائی کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا، حیرت انگیز انکشافات

datetime 3  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سینٹ کوبتایاگیاہے کہ حکومت پٹرول پر ٹیکسز کی مد میں 26 روپے 50 پیسے فی لٹر وصول کررہی ہے۔جمعہ کو حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی تفصیلات سینٹ میں پیش کر دی گئیں جس کے مطابق حکومت پٹرول پر ٹیکسز کی مد میں 26 روپے 50 پیسے فی لٹر وصول کررہی ہے۔ بتایاگیاکہ پٹرول پر ڈسٹری بیوشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ کی مد

میں 9روپے 84 پیسے فی لٹر وصول کئے جارہے ہیں، دستاویز کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل پر فی لٹر 39روپے 96پیسے فی لٹر ٹیکسز وصول کئے جارہے ہیں۔دستاویز کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل پر ڈسٹری بیوشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ کی مد میں 7روپے 21 پیسے فی لٹر وصولی کی جارہی ہے۔دستاویز کے مطابق مٹی کے تیل پر حکومت 15روپے 86 پیسے فی لٹر ٹیکس وصول کررہی ہے۔دستاویز کے مطاق مٹی کے تیل پر 15روپے 86 پیسے ڈسٹری بیوشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ کی مد میں وصول کیے جارہے۔دستاویز کے مطابق لائٹ ڈیزل آئل پر 11روپے 72 پیسے فی لٹر ٹیکسز وصول کئے جارہے ہیں۔ دستاویز کے مطابق لائٹ ڈیزل آئل پر 2روپے 38 پیسے فی لٹر ڈسٹری بیوشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ لی جارہی ہے۔دستاویز کے مطابق پٹرول کی قیمت خرید 62روپے 55 پیسے اور قیمت فروخت 98روپے 89 پیسے ہے۔دستاویز کے مطابق ڈیزل کی قیمت خرید 70روپے 26 پیسے اور قیمت 117 روپے 43 پیسے فی لٹر ہے۔ دستاویزات کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت خرید 69 روپے 65 پیسے اور قیمت فروخت 89روپے 31 پیسے فی لٹر ہے۔ دستاویز کے مطابق لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت خرید 66 روپے 44 پیسے اور فروخت 80 روپے 54 پیسے فی لٹر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…