منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

فولاد سازی کے سب سے بڑے کارخانے پاکستان اسٹیل ملز میں تبدیلی نہ آسکی،واجب الادا رقم اور نقصانات میں تشویشناک اضافہ

datetime 3  مئی‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)ملک میں نئی حکومت کے قیام کے باوجود فولاد سازی کے سب سے بڑے کارخانے پاکستان اسٹیل ملز میں تبدیلی نہ آسکی،ادارے کی بحالی میں غیر ضروری تاخیر کے باعث واجب الادا رقم اور نقصانات 490ارب روپے سے تجاوزکرگئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت اپنے دور اقتدار کے 8ماہ میں اسٹیل مل کے مستقبل کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کرسکی ہے۔چینی اور روسی کمپنیوں کی جانب سے اسٹیل مل کی بحالی کی پیشکشوں کے باوجود

اب تک ادارے کی قسمت کا فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔گزشتہ 8ماہ کے دوران اسٹیل مل کو واجبات اور نقصانات کی مد میں مزید30ارب روپے خسارہ کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ادارے کو یومیہ کی بنیاد پر 12کروڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑرہا ہے۔اسٹیل مل پر جولائی 2008سے اپریل 2019 تک واجبات و نقصانات کی مد میں 460ارب روپے قرض چڑھ چکا ہے جبکہ 30ارب روپے کا اضافہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کے دوران ہوا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل مل نے جون 2008 میں 10 ارب روپے کا منافع حاصل کیا تھا،تاہم دیکھتے ہی دیکھتے منافع میں جانے والی یہ مل 490ارب کی مقروض ہوگئی ہے۔سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ دور میں بھی اسٹیل مل کو نظر انداز کرنے کی پالیسی برقرار ہے۔ 8ماہ کے دوران نہ تو ادارے میں کسی مستقل سربراہ کا تقرر کیا جاسکا اور نہ ہی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی جاسکی۔ادارے میں مبینہ کرپشن کرنے والے عناصر کے احتساب میں بھی کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔ادارے کے ریٹائرڈ ملازمین اپنے واجبات کی وصولی کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں جبکہ موجودہ ملازمین کو باقاعدہ تنخواہوں کی ادائیگی کا سلسلہ بھی شروع نہیں کیا جاسکا۔ اسٹیل مل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اسٹیل کی صنعت سے متعلق پروفیشنلز (میٹالورجیکل) ہی موجود نہیں ہے جبکہ بورڈ کو ایڈ ہاک بنیاد پر چلایا جارہا ہے۔8 ماہ کے دوران حکومت یہ فیصلہ ہی نہیں کرسکی ہے کہ ادارے کو نجکاری میں دینا ہے یا پھر خود بحال کرنا ہے،تاہم ذرائع اس حوالے سے قیاس آرائیاں کررہے ہیں کہ ایک بار پھر اسٹیل مل کو نجکاری کی فعال فہرست میں ڈالا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…