منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

آغا سراج درانی، کامران مائیکل کیخلاف تحقیقات مکمل ،ریفرنس چیئرمین نیب کو ارسال،جانتے ہیں دونوں پر کیا سنگین الزامات ہیں؟

datetime 30  اپریل‬‮  2019 |

کراچی( آن لائن ) قومی احتساب بیورو (نیب) نے آغا سراج درانی اور سینیٹر کامران مائیکل کے خلاف ریفرنس منظوری کے لیے چیئرمین نیب کو ارسال کر دیے۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغاز سراج درانی کے خلاف نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ریفرنس چیئرمین نیب کو بھجوائے۔

ترجمان نیب کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے ڈیڑھ ارب روپے کے اثاثے بنائے جو اْن کی آمدن سے زائد ہیں اور یہ اْن کے ظاہر شدہ اثاثہ جات کے علاوہ ہیں جو کہ آغا سراج درانی، ان کے اہلخانہ اور بے نامی افراد کے پاس ہیں، جن کے ٹرائل کی سفارش کی جا چکی ہے۔ ان میں سے بعض بے نامی افراد آغا سراج اور ان کی فیملی کے ذاتی ملازم ہیں۔یاد رہے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو 20 فروری 2019 کو اسلام آباد کے ریڈ زون کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا۔دوسری جانب سینیٹر کامران مائیکل کے خلاف بھی ضمنی ریفرنس منظوری کے لیے چیئرمین نیب کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ کامران مائیکل پر رشوت کی مد میں 11 کروڑ روپے وصول کرنے کا الزام ہے۔کامران مائیکل نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹس کی غیر قانونی فروخت سے 11 کروڑ روپے حاصل کیے تھے۔کامران مائیکل پر رشوت کی رقم سے اپنے بھائی کے نام پر مختلف جائیدادیں بھی خریدنے کا الزام ہے۔ترجمان نیب کے مطابق مختلف مقدمات سے متعلق فیصلے نیب کراچی میں ریجنل بورڈ کے اجلاس میں ہوئے۔نیب کے ریجنل بورڈ نے قومی ائر لائن (پی آئی اے) سے متعلق دو شکایات کو انکوائریز میں تبدیل کرنے کی سفارش بھی نیب ہیڈ کوارٹر کو روانہ کردی۔

پہلی شکایت اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے اے ٹی آر طیارہ گراؤنڈ کرنے سے متعلق تھی جس کے پرزے چوری کر کے طیارے کو ناکارہ ظاہر کیا جانا تھا جب کہ معمولی مرمت سے وہ اڑنے کے قابل ہوسکتا تھا۔دوسری شکایت میسرز لیزیور کے ساتھ مارکیٹ ریٹس سے کم پر کارگو کی جگہ کے استعمال سے متعلق ہے اور بلڈر میسرز حمیر کے خلاف انکوائری کے بعد انویسٹی گیشن کی منظوری دی گئی۔ گلشن رومی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں 1979 سے اب تک 104 الاٹیز سے کروڑوں روپے بٹورنے کے باوجود قبضہ نہیں دیا گیا جس کی مالیت 60 کروڑ روپے بنتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…