پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان سے پنگا بھارت کے گلے پڑ گیا ،فضائی حدود کی بندش سےبھارتی ائیر لائنز کو اربوں کا نقصان

datetime 30  اپریل‬‮  2019 |

واشنگٹن(آن لائن)بین الاقوامی فلائٹ آپریشنز کو مانیٹر کرنے والے اوپی ایس گروپ کا کہنا ہے کہ فروری میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد فضائی پابندی سیکڑوں کمرشل اور کارگو پروازوں کو متاثر کر رہی ہے۔اس حوالے سے ’پاکستان کی فضائی حدود کی پابندی کا کوئی خاتمہ نہیں ہوا‘ کے عنوان سے رپورٹ میں گروپ نے حساب لگایا کہ فضائی حدود کی بندش سے روزانہ زیادہ سے زیادہ 350 پروازیں متاثر ہورہی ہیں۔

واضح رہے کہ او پی ایس گروپ کی جانب سے حساب انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار کو استعمال کرتے ہوئے لگایا گیا۔اس سے قبل غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کی جانب سے بنائے گئے ریجنل فلائٹس کے نقشے میں بتایا گیا تھا کہ پابندی سے یورپ میں 4 اور جنوب مشرقی ایشیا میں 4 ایئرپورٹس کے درمیان کم از کم 311 پروازیں متاثر ہور ہی ہیں۔خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے فروری کے آخر میں شمالی پاکستان کے حصوں میں فضائی حملوں کی کوشش کے بعد سے پاکستان نے اپنی فضائی حدود کو محدود کردیا تھا، ان پابندیوں میں سے زیادہ تر فروری سے نافذ ہیں جو کم از کم 15 مئی تک موثر رہیں گی۔علاوہ ازیں او پی ایس گروپ اور ایک اور پراوزوں کی نگران ایجنسی فلائٹ راڈار 24 نے بتایا کہ یہ بندش ’بین الاقوامی ایئرلائنز کو مہنگی اور زیادہ وقت کی پرواز، یعنی مسافروں کے پرواز کے دورانیے اور ایئرلائنز کے لیے ایندھن کی لاگت اضافے‘ پر مجبور کر رہی ہے۔پاکستان ایک اہم ایوی ایشن کوریڈور کے وسط میں واقع ہے، بھارت کے لیے پروازوں کو اکثر براہ راست پاکستان سے اور کچھ کو کشمیر کے بہت قریب سے گزرنا پڑتا ہے۔

جہاں فروری میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی محاذ ہوا تھا۔فلائٹ راڈار 24 کی جانب سے بتایا گیا کہ سنگاپور ایئرلائنز، برٹش ایئرویز، لفتھانسا اور تھائی ایئرویز ان ایئرلائنز میں شامل ہیں جن کی پروازیں کشمیر کے قریب سے گزرتی ہیں۔ادھر رواں ہفتے بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ فروری کے آخر سے ایئر انڈیا کو تقریباً 300 کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ اسے نئی دہلی سے یورپ، خلیج اور امریکا میں اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے لمبا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ پاکستان کی فضائی حدود بند ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…