منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

حکومت کو گرانے سے متعلق لیگی رہنما حمزہ شہباز نے خاموشی توڑتے ہوئے حیرت انگیز اعلان کر دیا

datetime 29  اپریل‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ہمیں حکومت کو گرانے کاشوق نہیں بلکہ ہم اسے موقع دینا چاہتے ہیں تاکہ یہ شہید نہ بن سکے اور عوام اس کا اصل چہرہ دیکھیں، آنے والے مہینوںمیں کمر توڑ مہنگائی کا طوفان دیکھ رہا ہوں جسے روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا ، حکمرانوں کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں اور یہ ملک چلانے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔

احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ قوموں پر مشکل وقت آتے ہیں لیکن اگر حکمرانوں میں اہلیت ہو تو معاملات چل پڑتے ہیں، اس حکومت کے وزیر ایک دوسرے پر الزام تراشی کررہے ہیں اور ماضی کا رونا رو رہے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے عام پاکستانی پریشان ہے اور اس کی وجہ سے غریب کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے ۔ عوام حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن حکمرانوں کی کوئی سمت اور نہ ان کے پاس روڈ میپ ہے ، قوم ایک ایک وعدہ جھوٹا ہوتا دیکھ رہی ہے۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ ہمیں حکومت کو گرانے کا کوئی شوق نہیں ، ہم اسے موقع دینا چاہتے ہیں تاکہ یہ شہید نہ بن سکے او رعوام اس کا اصل چہرہ دیکھیں۔انہوں نے کہا کہ پشاور میٹرو میں 7ارب کا غبن ہوا لیکن وہاں نیب نام کی چیز نظر نہیں آرہی،کیا وہاں نیب سو رہی ہے،احتساب کا دوہرا معیار اپنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اندرونی و بیرونی چیلنجز درپیش ہیں،بھارت میں مودی کی دوبارہ حکومت پاکستان کیلئے خطرہ ہوگی ،پاکستان کے دشمن ممالک اکٹھے ہو رہے ہیںلیکن نیازی کھلنڈرے کو اپوزیشن کو ستانے کے علاوہ کوئی کام نہیں ،ملک کو اتحاد اور یگانگت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز، شہباز اور میں احتساب سے بھاگنے والے نہیں،ہم نے مشرف کے دس سال میں نیب اور احتساب کا سامنا کیا ہے۔ اس قوم کو بے روزگاری اور مہنگائی نے ستایا ہوا ہے،

کوئی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کو تیار نہیں،آج ملکی معاشی حالات خوفناک ہیں۔ نیازی خان کنٹینرز پر چڑھ کر عوام کو سبز باغ دکھاتا تھا،اب حکومت وہ وعدے پورے کرے،ایک عام پاکستانی کی زندگی مہنگائی نے اجیرن کر دی ہے،ادویات 400 فیصد مہنگی ہو چکی ہیں۔عوام کو اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہتا،آنے والے مہینوں میں مہنگائی کا طوفان آ رہا ہے جسے روکنا کسی کے

بس کی بات نہیں ہو گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا آئین پارلیمانی نظام پر مشتمل ہے اور اس سے ہی ملک آگے بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بلدیاتی نظام کو تبدیل کرنا چاہتی ہے ،ملک کے مسائل بھوک پیاس، کھانے پینے کی اشیا ء کی مہنگائی ہے،اشیائے خوردونوش غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں،حکومت کو اپنی سیٹ پکی کرنے کی پڑی ہے ،اس طرح حکومتیں نہیں چلتیں،وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ تماشہ اور سرکس ہے،پوری دنیا دیکھ رہی ہے وزرا ء ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں،اعظم سواتی نااہل ہوئے لیکن عمران نیازی نے اسے دوبارہ وزیربنا دیا،کیا نیا پاکستان ایسا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…