منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب کا ایٹم بم ،عالمی جوہری توانائی ایجنسی سعودیہ کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے نہیں روک سکتی،سعودی ولی عہد کیا کررہے ہیں؟روسی اخبار کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 20  اپریل‬‮  2019 |

ماسکو/ ریاض (این این آئی )سعودی عرب کی جانب سے جوہری توانائی کے حصول کی کوششوں کو روسی ذرائع ابلاغ کی طرف سے بھی خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے، روس کے ایک کثیر الاشاعت اخبار نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھا کہ سعودی عرب جوہری توانائی کے حصول کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے، عالمی توانائی ایجنسی آئی اے ای اے سعودی عرب کو جوہری توانائی کے حصول کیعزم سے باز نہیں رکھ سکتی،

اخبار کے مطابق بہت سے ملکوں کو سعودی عرب کی طرف سے جوہری توانائی کے غیر فوجی اور سول مقاصد کے لیے استعمال کی ضمانت فراہم کیے جانے کا انتظار ہے. اس حوالے سے عالمی توانائی ایجنسی نے سعودی کے ساتھ ایک معاہدے کی بھی پیشکش کی ہے،توقع ہے کہ سعودی عرب میں رواں سال کے اختتام تک ایک تجرباتی ایٹمی ری ایکٹر قائم کرلیا جائے گا. ماہرین کو اس بات کی توقع نہیں کہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو سعودی عرب میں قائم ہونے والی جوہری پلانٹ کی معائنہ کاری کی ضرورت ہو گی. سعودی عرب عالمی برادری پر واضح کرچکا ہیکہ وہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حصول کے لیے کوشش کر رہا ہے،دوسری جانب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کئی میگا منصوبوں کی منظوری دی ہے، ان منصوبوں میں مملکت کے اندر جوہری تحقیقاتی مرکز کا قیام بھی شامل ہے، سعودی عرب کی ایس آئی بی کمپنی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ولی عہد نے شاہ عبدالعزیز سائنس وٹکنالوجی سٹی کے دورے کے موقع پر سات میگا منصوبوں کی منظوری دی. ان میں جوہری توانائی سمیت متبادل توانائی کے منصوبے شامل ہیں،عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کرنا ضروری ہے تا کہ عالمی ایجنسی کو ریاض کی طرف سے جوہری سرگرمیوں کی تفصیلات اور ان کے غیر فوجی ہونے کی ضمانت مل سکے،

ان کا کہنا تھا کہ عالمی ایجنسی اور ایٹمی ہتھیار رکھنے والیممالک کے درمیان بھی اس نوعیت کے معاہدے موجود ہیں.ان معاہدوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جوہری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا تمام خام مواد اس ملک کے اندر موجود ہے اور اسے باہر سے حاصل نہیں کیا جائے گا،اس کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی ایجنسی ملکوں کے طے پائے معاہدوں میں ان کی جوہری تنصیبات کے معائنوں کی بھی شرط رکھی ہے تاکہ جوہری مواد کو غیر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی یقین دہانی کی جا سکے،

امانو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں جوہری پلانٹ کا قیام ایک حقیقت ہے اور اس حوالے سے سعودیہ نے پانچ سال قبل مطلع کر دیا تھا،ریاض حکومت کی طرف سے واضح کردیا تھا کہ وہ جوہری توانائی کیمیدان میں تحقیقات کا عزم رکھتا ہے. اس کے ساتھ ساتھ ریاض نے بار بار اپنے مجوزہ جوہری پروگرام کے پرامن اور غیر فوجی ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے،سعودی حکومت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر 16 ایٹمی تنصیبات قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے سنہ 2030ء کے ویڑن کے مطابق سعودی عرب متبادل توانائی سے 9.5 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…