پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

فاسٹ فوڈ سینٹر میں سعودی خواتین کے ساتھ غیر ملکیوں کو ملازم رکھنے پر کتنے ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائیگا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

datetime 16  اپریل‬‮  2019 |

مکہ مکرمہ(این این آئی )وزارت محنت وسماجی بہبود آبادی نے فاسٹ فوڈ کے مرکز میں سعودی خواتین کے ساتھ غیر ملکیوں کو ملازم رکھنے پر 40 ہزار ریال جرمانہ عائد کر دیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق فاسٹ فوڈ کے سینٹر میں وزارت محنت کے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی پر

جرمانہ عائد کیا گیا ۔وزارت محنت کے ترجمان خالد اباالخیل نے مزید بتایا کہ قانون کے مطابق سعودی خواتین کو ملازمت فراہم کرنے سے قبل اس امر کی یقین دہانی کرائی جانی لازمی ہے کہ خواتین کارکنوں کو بہترین ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ یکسو ہو کر اپنے فرائض ادا کرسکیں ۔ وزارت کی تفتیشی ٹیم کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ مکہ مکرمہ کے ایک فاسٹ فوڈ سینٹر میں غیر ملکی کارکنوں کے ساتھ سعودی خواتین کو ایک ہی جگہ ملازم رکھا گیا ہے جوکسی طرح مناسب نہیں ۔اطلاع ملنے پر وزارت محنت کی ٹیم نے جائزہ لیا اور اطلاع کو درست پاتے ہوئے قانون شکنی پر سینٹر کے مالک پر 40 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کر دیا ۔واضح رہے وزارت محنت کے قانون کے مطابق وہ ادارے جہاں سعودی خواتین کو ملازم رکھا جاتا ہے انہیں کہا گیا ہے کہ وہ سعودی خواتین کارکنوں کو بہترین ماحول فراہم کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ ان کے ہمراہ مرد کارکن نہ ہوں ۔ اگر ایسا ضروری ہو تو اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ فیملی سیکشن میں پارٹیشن ہو جس سے مرد اور خواتین کارکن جدا جدا ہو سکیں ۔ قانون کے مطابق کسی بھی ادارے ، دکان یا سینٹر میں جہاں سعودی خواتین کو ملازم رکھا جائے وہاں انکے آرام اور نماز ادا کرنے کی علیحدہ سے جگہ مخصوص کی جائے جہاں مردکارکن نہ آتے ہوں ۔ قانون پر عمل نہ کرنا قانون شکنی تصورہوتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…