جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

وکی لیکس بانی جولین اسانج 7 سال طویل سیاسی پناہ گزارنے کے بعد برطانیہ میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے گرفتار

datetime 11  اپریل‬‮  2019 |

لندن( آن لائن ) وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو 7 سال کی طویل سیاسی پناہ گزارنے کے بعد برطانیہ میں سفارتخانے سے گرفتار کرلیا گیا۔ جولین اسانج کو لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے گرفتار کیا گیا۔ادھر میٹروپولیٹن پولیس سروس کے مطابق وکی لیکس کے بانی کو سینٹرل لنڈن پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے۔

جہاں وہ اس وقت تک رہیں گے جب تک انہیں جلد از جلد ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا۔پولیس نے مزید کہا کہ ایکواڈور کی حکومت کی جانب سے سیاسی پناہ واپس لینے کے بعد سفارتکار نے پولیس کو سفارتخانے میں بلایا۔واضح رہے کہ وکی لیکس کے بانی زیادتی کیس میں سوئڈن حوالگی سے بچنے کے لیے 7 سال سے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں مقیم تھے، تاہم ان کی سیاسی پناہ ختم کرنے کے اعلان پر انہیں گرفتار کرلیا گیا۔میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے میں ناکام ہونے پر جولین اسانج کو گرفتار کیا گیا۔ادھر ایکواڈور کے صدر لینن مورینو کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد جولین اسانج کی سیاسی پناہ واپس لے لی گئی۔تاہم وکی لیکس کی جانب سے ایک ٹوئٹ کی گئی کہ ایکواڈور کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر جولین اسانج کی سیاسی پناہ کو ختم کیا گیا۔دوسری جانب برطانوی سیکریٹری داخلہ ساجد جاوید نے ٹوئٹ کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس نے وکی لیکس کے بانی کو گرفتار کرلیا۔اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ جولین اسانج پولیس کی حراست میں ہیں اور وہ برطانیہ میں انصاف کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں، میں تعاون پر ایکواڈور اور پیشہ وارانہ مہارت پر میٹ پولیس برطانیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…