منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کی تعریف کی جائے یا نہیں؟مودی بھکت الجھن کا شکار

datetime 10  اپریل‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر اپنے رد عمل میں حکومتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ عمران خان کے بیان پر بھکت سخت سوچ بچار اور الجھن کا شکار ہوں گے کہ عمران خان کی تعریف کی جائے یا نہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے عام انتخابات پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارت میں دائیں بازو کی جماعت بی جے پی برسراقتدار آتی ہے تو شاید مسئلہ کشمیر حل ہوجائے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت کے عام انتخابات پرعمران خان کے اس بیان کے آنے کی دیر تھی کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین کا ردعمل آنا شروع ہوا جس میں زیادہ دلچسپی بھارتی شہریوں نے لی اور ٹوئٹر پر اپنا اظہار خیال کیا۔ ردعمل دینے والوں میں سیاست دان اور صحافی بھی شامل ہیں۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے عمران خان کے بیان پر اپنے رد عمل میں حکومتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے بیان پر بھکت سخت سوچ بچار اور الجھن کا شکار ہوں گے کہ عمران خان کی تعریف کی جائے یا نہیں۔ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اور جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے رہنما عمرعبداللہ نے ٹویٹر پر کہا کہ عمران خان نے مودی کے دوسری بار وزیراعظم منتخب ہونے کی توثیق کی ہے جبکہ نریندرمودی عوام کو بتاتے رہے ہیں کہ پاکستان اوراس کے خیرخواہ چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت بی جے پی انتخابات ہار جائے۔کرتی کوشک نامی انڈین شہری نے انڈین میڈیا کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان نے حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کی اسی انداز میں توثیق کی ہوتی تو انتہائی سخت غصے کا اظہار کیا جاتا۔ انہوں نے کچھ صحافیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے منہ سے غصے میں جھاگ نکل رہی ہوتی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…