جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

پشاور ریپڈ بس منصوبے کے تین ارب بیس کروڑ روپے کے فنڈز کی ادائیگی رو ک دی گئی،سات سینئر انجینئرز بھی مستعفی ،بات بڑھ گئی

datetime 8  اپریل‬‮  2019 |

پشاور(آن لائن)پشاور ریپڈ بس منصوبے میں تین ارب بیس کروڑ روپے کے فنڈز کی ادائیگی رو ک دی گئی ہیں جبکہ پراجیکٹ میں کام کرنے والے سات سینئر انجینئرز بھی مستعفی ہو گئے ہیں 186ملین اور 156ملین روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے گاڑیوں کے حیات آباد اور ڈبگری ڈپوز پر کام بھی تاحال شروع نہیں ہو سکا ذرائع کے مطابق حیات آباڈ ڈپو کے لئے 186ملین روپے

جبکہ ڈبگری ڈپو کے لئے 156ملین روپے اے ڈی پی میں مختص کئے گئے تھے ۔ کنسٹرکشن کمپنیوں پر دباؤ کے باعث ٹھیکیدار ذہنی طور پر اور مالی طور پر شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ پراجیکٹ میں کام کرنے والے چار ہزار سے زائد ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی روک دی گئی ہیں اور پنجاب سے آئے ہو ئے مزدرووں ، انجینئرز کو تنخواہوں کی ادائیگی گزشتہ مہینے سے تاحا ل نہیں ہو ئی ہے جس پر بیشتر مزدوروں نے کام چھوڑ دیا ہے جس سے بروقت بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل سوالیہ نشان بن گیا ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب میں کنٹریکٹرز کو بل کی ادائیگی روزانہ کی بنیاد پر ہوتی تھی جس سے پریم ٹائم ورک میں منصوبہ مکمل ہوا تھا تاہم پشاور میں بی آر ٹی منصوبے کے لئے کنسٹرکشن کمپنیوں کو نہ تو بینکوں کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کی جا رہی ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے تین ارب بیس کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔ ٹھیکیداروں اور ملازمین میں تکرار کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ تاہم پی ڈ ی اے انتظامیہ نے تین ارب روپے بیس کروڑ روپے کی ادائیگی رکنے سے لاعلمی کا اظہارکیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز پشاو ر کے چار اسٹیشنوں پر ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاجی طور پر کام بھی نہیں کیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…