اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں کہا گیا کہ عوام رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر شرعی اور قانونی طور پر عمل کرنے کی پابند نہیں ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس مولانا اسعد محمود کی صدارت میں پارلیمنٹ لاجز میں ہوا جہاں رویت ہلال کمیٹی کے قیام پراب ہونیوالے والے کام سے متعلق مکمل تفصیلات طلب مانگ لیں ہیں
جبکہ اگلے اجلاس میں مکمل ایجنڈا رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔رہنما پیپلز پارٹی و رکن اسمبلی شگفتہ جمانی کا کہنا تھا کہ ملک میں کم از کم عید تو ایک دن ہونی چاہیےجس کیلئے تاحال رویت ہلال کمیٹی کے قواعد باضابطہ طور پر ابھی تک نہیں بنے اگر بنے ہیں تو پیش کیے جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رویت ہلال کمیٹی میں اس وقت جو کام میں لگے ہوئے ہیں پتہ نہیں ان کی نظر بھی ٹھیک ہے یا نہیں ؟۔مولانا اسعد محمود نے کہا کہ موجودہ رویت ہلال کمیٹی کی ابھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اس لیے عوام رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر شرعی اور قانونی طور پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی کا کہنا تھا کہ شمسی کیلنڈر کے ساتھ ساتھ لونر کیلنڈر بھی ہونا چاہئیے، جس کے لیے کمیٹی اس پر کام تیز کرے۔جبکہ دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے وزارتوں کی ویب سائیٹس پر معلومات نہ ہونے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وزارتوں کی ویب سائیٹس کا کوئی سر پیر نہیں،وفاقی وزارتوں کی ویب سائیٹس اپ ڈیٹ نہیں ہوتیں جبکہ چیئر مین پی ٹی اے نے بتایا ہے کہ پی ٹی اے کا جعلی اکاونٹس اور دیگر شکایات کیلئے یو اے این نمبر موجود ہے،شکایات سننے کیلئے تقریبا 12 لائینز فراہم کی گئی ہیں،جو ہمیں شکایت موصول ہوتی ہے ،پی ٹی اے اسی وقت شکایات متعلقہ سروس کو بھجوا دیتا ہے،شکایات کے ازالہ کے لئے فیس بک کا ردعمل اچھا ،
ٹوئیٹر کو اچھا نہیں ہے ۔ پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس علی خان جدون کی صدارت میں ہوا جس میں پی ٹی اے نے سوشل میڈیا پر جعلی اکاونٹس پر بریفنگ دی ۔ چیئر مین پی ٹی اے نے کہاکہ پی ٹی اے کا جعلی اکاونٹس اور دیگر شکایات کے لئے یو اے این نمبر موجود ہے۔انہوںنے کہاکہ شکایات سننے کے لئے تقریبا 12 لائینز فراہم کی گئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ
جو ہمیں شکایت موصول ہوتی ہے پی ٹی اے اسی وقت شکایات متعلقہ سروس کو بھجوا دیتا ہے۔انہوںنے کہاکہ شکایات کے ازالہ کے لئے فیس بک کا ردعمل اچھا ، ٹوئیٹر کو اچھا نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ ٹوئیٹر اور فیس بک کی اچھی پالییسز ہیں۔ڈی جی ایف آئی اے نے کہاکہ 114 اہلکار ایف آئی اے سائبر ونگ میں کام کررہے ہیں۔انہوںنے بتاکہ 406 اہلکاروں کی بھرتیاں رمضان کے بعد تک ہوجائیں گی۔
انہوںنے کہاکہ عوام سائبر کرائم سے متعلق اپنے شکایات آن لائن درج کروا سکتے ہیں۔ناز بلوچ نے کہاکہ میرے سوشل میڈیا پر موجود جعلی اکاونٹس تاحال موجود ہیں۔انہوںنے کہاکہ جعلی اکاونٹس کی رپورٹ بھی کی لیکن تاحال کوئی عمل نظر نہیں آسکا۔انہوںنے کہاکہ خواتین کی شکایات کے لئے علیحدہ اور زیادہ کال سینٹر قائم ہونا چاہیں۔ انہوںنے کہاکہ خواتین کو سوشل میڈیا پر زیادہ مسائل درپیش ہوتے ہیں۔
ڈی جی ایف آئی اے نے کہاکہ ایف آئی اے میں 406 پوسٹوں میں 25 فیصد خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا سے متعلق 30 ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ شکایات کا مرحلہ وار حل نکالا جارہا ہے۔زین قریشی نے تجویز دی کہ شکایات کا ٹریکنگ نظام بنایا جانا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ شکایات کا آئن لائن پورٹل بنایا اور آن لائن ٹریکنگ بھی ہونا چاہیے ۔ سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ
وزارت اس وقت سائبر سیکورٹی کے لئے نیشنل سرٹ کے لئے کام کررہی ہے، تمام اداروں کی سرٹس ہونگی جو نیشنل سرٹ کے ساتھ منسلک ہوں گی۔انہوںنے کہاکہ وزارت آئی ٹی پالیسی تشکیل دیتی ہے،پی ٹی اے کابینہ ڈویژن کے تابع ہے۔ سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ ایف آئی اے بھی ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔معروف افضل نے کہاکہ سائبر کرائم ایکٹ میں ہر ادارہ کا کردار مختص کیا گیا ہے۔
بلوچ ناز نے کہاکہ سوشل میڈیا کے مسائل کے حل کے لئے اضلاع تک سہولت فراہم کرنے کا نظام ہونا چاہیے ۔ ممبر ٹیلی کام نے کہاکہ پی ٹی اے اور ایف آئی اے کا اپنا اپنا مینڈیٹ ہے، پی ٹی اے خود سے ایف آئی اے کو شکایت ریفر نہیں کرسکتا۔ممبر ٹیلی کام مدثر حسین نے کہاکہ شکایت کے لئے مدعی کو ہونا بہت ضروری ہے۔ناز بلوچ نے کہاکہ سوشل میڈیا پر جن کی زیادہ فالونگ ہے
انہیں اس نظام بارے آگاہی دی جانا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ جن کی سوشل میڈیا پر زیادہ فالونگ ہے وہ آگے آگاہی دے سکتے ہیں۔اجلاس کے دور ان نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے حکام نے ای آفس پر بریفنگ دی ۔ این آئی ٹی بی حکام نے بتایاکہ ای آفس کا مطلب فائلنگ اور فائنگ کی آٹومیشن ہے، لیول ٹو پر وہ وزارتیں ہیں جن کا کوئی ایک ونگ ای آفس کے پیرا میٹر پر پورا اترے۔ سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ
نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو خود مختار ادارہ بنا رہے ہیں۔،42 میں سے 26 وزارتیں ای آفس کے لیول ٹو پر ہیں۔سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ رواں سال کے آخر میں باقی تمام وزارتوں ای آفس کے لیول ون پر لے آئیں گے۔ حکام این آئی ٹی بی نے بتایاکہ بہت سی وزارتوں نے ای آفس کے حوالے سے گرمجوشی نہیں دکھائی۔انہوںنے کہاکہ ہم نے وزارتوں کا سروے کرلیا، ای آفس کیلئے سامان فراہم کریں گے۔
انہوںنے کہاکہ اگلے سال جون تک تمام وزارتوں کو لیول فور پر لے جائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ وفاقی حکومت چیف ٹیکنالوجی آفیسر تعینات کریگی۔انہوںنے کہاکہ چیف ٹیکنالوجی آفیسر ای آفس کے تمام منصوبے کو مانیٹر کریگا۔ایم این اے زین قریشی نے کہاکہ ہمیں ای آفس کے ساتھ سیکورٹی بڑھانا ہوگی۔ ایم این اے زین قریشی نے وزارتوں کی ویب سائیٹس پر معلومات نہ ہونے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ
وزارتوں کی ویب سائیٹس کا کوئی سر پیر نہیں۔ انہوںنے کہاکہ وفاقی وزارتوں کی ویب سائیٹس اپ ڈیٹ نہیں ہوتیں انہوںنے کہاکہ تمام وزارتوں کی ویب سائٹس کا ایک ہی ٹیمپلیٹ ہونا چاہیے۔ حکام این آئی ٹی بی نے بتایاکہ وزارتوں کی ویب سائیٹس کو ایپ ڈیٹ کرنا ہماری ذمہ داری نہیں۔ سیکرٹری آئی ٹی نے بتایاکہ آئی ٹی ٹاسک فورس نے آئی ٹی سے متعلق سلیبس کا تعین کیا ہے،
ٹاسک فورس نے وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو وہ نصاب تجویز کیا ہے۔بازبلوچ نے کہاکہ طالب علموں کے لئے انٹرن شپ لازمی قرار دی جانا چاہیے ۔ معروف افضل نے کہاکہ اپنے آئی ٹی پارکس بنائیں گے تو اس میں کمپنیوں کو سبسڈی فراہم کی جائیگی۔سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ ہم آئی ٹی پارکس کیساتھ ساتھ اکنامک زونز بھی تیار کرنا چاہتے ہیں۔